رسائی کے لنکس

ملکی سیکورٹی ایجنسیاں ایسی اطلاعات رکھتی ہیں کہ چندے یا جبری چندے کے لئے اکھٹی کی گئی رقوم بعض سیاسی جماعتوں اور خاص کر کالعدم تنظیموں کی جانب سے بطور ’جہادی فنڈ‘ یا اسلحہ خریدنے کے لئے استعمال ہورہی ہیں، حالانکہ حکومت کی جانب سے ان پر سخت پابندی عائد ہے

پاکستان میں رمضان کے شروع ہونے سے بھی ہفتہ، دس دن پہلے فلاحی و رفاحی کاموں کے لئے چندے کی اپیلیں شروع ہوجاتی ہیں اور چونکہ اس ماہ زیادہ سے زیادہ چندہ دینے کی دینی ترغیبات موجود ہیں اس لئے چندہ لینے اور دینے کے لئے رمضان سب سے موزوں مہینہ شمارہوتا ہے۔

کراچی سمیت ملک بھر میں اس وقت درجنوں فلاحی ادارے چندے پر چل رہے ہیں۔، یہ ادارے سیاسی و دینی تنظیموں کے زیر سایہ فلاحی کام کر رہے ہیں جیسے متحدہ قومی موومنٹ کا ادارہ ’خدمت خلق فاؤنڈیشن‘، جماعت اسلامی کا’ الخدمت‘، جماعت الدعوۃ کا ’فلاح انسانیت فاؤنڈیشن‘۔۔

چندہ نادار افراد مین راشن کی فراہمی کا سبب

چندہ نادار افراد مین راشن کی فراہمی کا سبب

اس کے علاوہ، کچھ ادارے غیرسرکاری تنظیموں یا فلاح و بہبود کے اداروں کے طور پر انسانی خدمات انجام دے رہے ہیں مثلاً، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ، سیلانی ٹرسٹ، ایدھی ٹرسٹ اور چھپیا۔

ان اداروں کی جانب سے چندے کی رقوم لاوارث لاشوں کی تدفین، میت گاڑی اور ایمبولینس کی سہولت، علاج معالجہ، مالی امداد، تعلیمی اخراجات، جہیز اور ایسے ہی درجنوں فلاحی کاموں پر خرچ کی جاتی ہیں۔ لیکن، اسی چندے سے جڑا ایک پہلو اور بھی ہے جس پر اکثر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

جبری چندہ!
کچھ سیاسی جماعتوں پر جبری چندے وصول کرنے کے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں۔ ان میں متحدہ قومی موومنٹ سرفہرست ہے اور اس پر رضاکارانہ چندہ لینے پر بھی ان دنوں پابندی ہے۔ تاہم، ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر اور سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہمارے فلاحی کام بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے چاہنے والے پوری دنیا میں موجود ہیں جو ’’کے کے ایف‘ کو رضاکارانہ طور پر چندہ دیتے ہیں ۔‘‘

چندہ بطور جہادی فنڈ اور۔۔۔
ملکی سیکورٹی ایجنسیاں ایسی اطلاعات رکھتی ہیں کہ چندے یا جبری چندے کے لئے اکھٹی کی گئی رقوم بعض سیاسی جماعتوں اور خاص کر کالعدم تنظیموں کی جانب سے بطور ’جہادی فنڈ‘ یا اسلحہ خریدنے کے لئے استعمال ہورہی ہیں حالانکہ حکومت کی جانب سے ان پر سخت پابندی عائد ہے۔

چندہ افطاری انتظامات کے لئے بھی معاون

چندہ افطاری انتظامات کے لئے بھی معاون

ہفتے کو آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ ’’عوام جہاں بھی جبری چندہ، فطرہ یا عطیہ وصول کرتے دیکھیں پولیس کو اطلاع دیں‘‘۔ لیکن اس کے باوجود کالعدم تنظیموں کی جانب سے عطیات جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔

خفیہ سیکورٹی ادارے اور رینجرز اکثر اطلاعات پر کالعدم تنظیموں کے خلاف چھاپے مارتی رہی ہیں جہاں سے نفرت آمیز اور فرقہ ورانہ تفریق کو بڑھاوا دینے والا لٹریچر و اسلحہ بھی برآمد ہوچکا ہے۔

غریبوں میں تقسیم کے لئے تیار پیکٹس

غریبوں میں تقسیم کے لئے تیار پیکٹس

یہی وہ وجوہات ہیں جن کے سبب چندے اور جبری چندے پر پابندیاں عائد ہیں ورنہ فلاحی اداروں کے لئے چندہ اکھٹا کرنے میں کوئی دینی یا دنیاوی برائی نہیں۔ آج بھی سرکاری سیکٹر کے سوا نجی شعبے کا بڑا سے بڑا اسپتال خواہ وہ آغاخان یونیورسٹی اسپتال ہو، عمران خان کا شوکت خانم اسپتال، کڈنی سینٹر ہو یا پھر ایس آئی یوٹی جیسے بڑے ادارے۔۔ سب زکوۃ اور فطرہ طلب کرتے ہیں اور یہی چندہ ان کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ چندہ اکھٹا کرنے سے متعلق منفی تاثر کو زائل کیا جاسکے اور یہ تبھی ممکن ہے جب چندے کی رقوم کا استعمال درست سمت میں ہو۔

تفصیل کے لیے منسلک وڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG