رسائی کے لنکس

پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں ’فائر بندی پر اتفاق کیا گیا‘: افغان سفیر


سرحد پر موجود ایک افغان سکیورٹی اہلکار

سرحد پر موجود ایک افغان سکیورٹی اہلکار

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بدھ کو ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ طورخم میں پاکستانی سرحد کے اندر گیٹ کی تعمیر پر اعتراض کسی طور درست نہیں۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر حضرت عمر زخیلوال کو وزارت خارجہ طلب کر کے طورخم میں حالیہ فائرنگ میں پاکستانی فوج کے ایک میجر کی ہلاکت پر شدید احتجاج کیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق 13 جون کو طورخم کے مقام پر افغان فورسز کی فائرنگ میں زخمی ہونے والے میجر علی جواد خان منگل کو پشاور کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔

اُدھر پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال نے ایک بیان میں کہا کہ بدھ کو اُن کی پاکستان کے متعلقہ حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں طورخم میں فائربندی، کشیدگی میں کمی اور سرحد کے دونوں جانب فوجی اضافہ کم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

افغان سفیر نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ طورخم کے بارے میں پاکستانی قائدین سے ملاقاتیں سود مند رہی۔

واضح رہے کہ افغان سفیر نے بدھ کی صبح ایک الگ بیان میں کہا تھا کہ 13 مئی کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل سے اُن کی ملاقات میں طورخم کے مقام پر گیٹ کی تعمیر کے حوالے سے اتفاق نہیں ہوا تھا اور اُن کے بقول اس کی طرح خبریں بے بنیاد ہیں۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بدھ کو افغان سفیر سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں افغانستان کی طرف سے سامنے آنے والے اُن بیانات کو بھی مسترد کیا جن میں کہا جا رہا ہے کہ گیٹ کی تعمیر دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

فائرنگ کے تبادلے میں مرنے والے پاکستانی فوجی افسر کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں

فائرنگ کے تبادلے میں مرنے والے پاکستانی فوجی افسر کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں

وزارت خارجہ کے بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ سرحد کی نگرانی کو موثر بنانے کے لیے تعمیرات کا کام پاکستانی حدود میں کیا جا رہا ہے اور اس کام کا آغاز گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے عہدیداروں کے درمیان ہونے والے اجلاسوں میں اس بارے میں اتفاق رائے کے بعد کیا گیا۔

بیان کے مطابق افغان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ’بلااشتعال فائرنگ‘ کے سلسلے کو بند کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

اُدھر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بدھ کو ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ طورخم میں پاکستانی سرحد کے اندر گیٹ کی تعمیر پر اعتراض کسی طور درست نہیں۔

’’تعمیر کیا جانے والا گیٹ پاکستانی حدود میں ہے، کسی طریقے سے اس پر احتراز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔ یہ جتنے بھی فیصلے ہیں حکومت اور فوج مل کر رہی ہے۔ طریقہ کار کی منظوری کے بعد یہاں تعمیر کا کام شروع ہوا۔‘‘

پاکستان کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے سرحد کی نگرانی اہم ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق سرحد کو محفوظ بنانا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کہتے ہیں کہ خطے میں امن کی کے لیے سرحد کی موثر نگرانی اہم ہے۔

’’سرحد کی نگرانی کے طریقے کار پر عمل درآمد ہمارے لیے بہت اہم ہے، تاکہ خطے میں امن ممکن ہو۔۔۔۔۔ جہاں جہاں بھی مروجہ کراسنگ پوائنٹ ہیں وہاں (ایسے گیٹ) بننے ہیں۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا۔ پاکستان کے ایک فوجی افسر کے علاوہ افغانستان میں دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے جب کہ دونوں جانب متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں اکثریت سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہے۔

اس حالیہ کشیدگی کے تناظر میں افغان صدر اشرف غنی کی زیر صدارت منگل کو کابل میں ایک اجلاس بھی ہوا جب کہ پاکستان کے لیے افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال نے منگل کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے طورخم میں کشیدگی کم کرنے کے سلسلے میں ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی تھی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد تقریباً 2600 کلومیٹر طویل ہے اور دونوں جانب حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اس سرحد کا بیشتر حصہ غیر محفوظ ہے کیوں کہ دشوار گزار راستوں کو دہشت گرد ایک سے دوسرے ملک میں آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG