رسائی کے لنکس

غزہ:جنگ بندی جاری، حالات معمول پر آتے جا رہے ہیں


Birds fly as the sun sets over the northern Gaza Strip

Birds fly as the sun sets over the northern Gaza Strip

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک نے کہا ہے کہ اُنھیں اِس بات کی اجازت دینے میں کوئی پس و پیش نہیں کہ فلسطینی کاشتکار اور ماہی گیر اپنی محنت کی روزی کمائیں

اتوار کو جنگ بندی کا پانچواں دِن تھا، جِس کےنتیجے میں غزہ میں اسرائیل اورحماس کے فلسطینی شدت پسند گروپ کے درمیان آٹھ روزہ لڑائی کا خاتمہ ہوا۔ سرحد کے دونوں پار، حالات تیزی سے معمول پر آرہے ہیں۔

یروشلم سے وائس آف امریکہ کے نمائندے رابرٹ برجر نے اطلاع دی ہے کہ 10 روز کے بعد اتوار کو جنوبی اسرائیل کے اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں جنھیں حماس کی حکمرانی والی غزہ کی پٹی سےہونے والے فلسطینی راکیٹ حٕملوں کے بعد بند کردیا گیا تھا۔

خاندان کےایک سربراہ نے بتایا کہ اُنھیں اِس بات کی خوشی ہے کہ اسکول کھل گئے ہیں ، ’اور میرے بچوں نے جانا شروع کردیا ہےاور حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔ معمولات زندگی شروع ہونا اچھی بات ہے اور یہ میرے بچوں کے لیے بہتر ہے‘۔

اسرائیل کے بچے حالات کے معمول پر آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بم سے محفوظ رہنے کے لیے پناہ گاہ میں چھٹیاں گزارنے سے اسکول دوبارہ کھلنا کہیں بہتر ہے ۔

ہفتے کو غزہ میں بھی اسی طرح کے جذبات پائے جاتے تھے۔لاکھوں فلسطینی بچوں نے اسکول جانا شروع کر دیا ہے، جب کہ اس سے قبل اسرائیلی فضائی حملوں سے بچنے کی خاطر اُنھیں گھروں کی پناہ گاہوں میں بند ہونا پڑتا تھا۔

سمجھوتے کی شرائط کے تحت، اسرائیل بھی غزہ کی سرحد پر عائد پابندیوں کو نرم کر رہا ہے۔

مچھلی کا شکار کرنے والی فلسطینی کشتیاں سمندر میں 10کلومیٹر اندر جاچکی ہیں، جو پچھلی پانچ کلومیٹر کی حد سے دوگنا فاصلہ ہے، جس کے لیے اسرائیل کا کہنا تھا کہ اسے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنے کی خاطر عمل میں لایا گیا تھا۔ فلسطینی کہتے ہیں کہ گہرے پانی میں مچھلی کا بہتر شکار ہاتھ آتا ہے۔

غزہ کے کاشتکاروں کو اسرائیلی سرحد کی باڑ کے قریب واقع زمین تک جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، جو اس سے قبل مقید فوجی علاقہ تھا۔

حماس کے ایک سینئر عہدے دار، خالد الحیا نے فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں نے زمین اور سمندر میں واقع اپنی کچھ زمین اسرائلیوں سے بازیاب کرالی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک نے کہا ہے کہ اُنھیں اس بات کی اجازت دینے میں کوئی پس و پیش نہیں کہ فلسطینی کاشتکار اور ماہی گیر اپنی محنت کی روزی کمائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جب تک فلسطینی شہریوں کو حماس کے حملوں کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا، اسرائیل جنگ بندی پر عمل پیرا رہے گا۔

غزہ میں ایک سینئر مسلمان مذہبی شخص کےبیان سے جنگ بندی میں مضبوطی آئی ہے، جنھوں نے نے ہتھیاربند فلسطینی گروپوں کو متنبہ کیا تھا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ’ گناہ‘ کے برابر ہے۔ مولوی سلیمان الدایا نے ایک فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کو قائم رکھنا ہر ایک کی مذہبی ذمہ داری ہے۔
XS
SM
MD
LG