رسائی کے لنکس

شہر کے جس حصے میں آپ شام اور رات کے اوقات میں ٹریفک میں بلاوجہ پھنسی گاڑیاں دیکھیں، سمجھ جائیں آس پاس کوئی نہ کوئی موبائل مارکیٹ، مال یا کم ازکم دو چار دکانیں ایسی ضرور ہیں جہاں نئے پرانے موبائل خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔

کراچی میں موبائل فون اسٹریٹ کرائم اور دہشت گردی کے بعد اب ’ٹریفک جام‘ کا سبب بھی بن گیا ہے۔ پورا شہر تقریباً 18 ٹاؤنز اور 5 اضلاع پر مشتمل ہے اور ہر ڈسٹرکٹ میں ایک یا دو ایسے شاپنگ مالز اور مارکیٹس موجود ہیں جو دن بھر اور خاص کر شام کے اوقات میں ٹریفک کی روانی میں بری طرح خلل کا سبب بن رہے ہیں۔

شہر کے جس حصے میں آپ شام اور رات کے اوقات میں بلا وجہ ٹریفک میں پھنسی گاڑیاں دیکھیں، سمجھ جائیں آس پاس کوئی نہ کوئی موبائل مارکیٹ، مال یا کم ازکم دو چار دکانیں ایسی ضرور ہیں جہاں نئے پرانے موبائل خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔

موبائل مالز یا مارکیٹس میں آنے والوں لوگوں کی سینکڑوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلز کی پارکنگ ایک مسئلہ بن گئی ہے اور شہر کو کوئی بھی حصہ ایسا نہیں رہا جہاں موبائل مالز ’بمپر ٹو بمپر ٹریفک جام‘ کا سبب نہ ہوں حتی کہ کئی کئی گھنٹے تک گاڑیاں پھنسی رہتی ہیں۔

موبائل فون کا کامیاب جادو
موبائل فونز کے کاروبار میں ایسا کیا ہے کہ لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں؟ اس کے جواب میں عبداللہ ہارون روڈ صدر میں واقع ایک موبائل فون شاپ کے مالک محمد سلمان نے وی او اے کو بتایا، ’میں سمجھتا ہوں سب سے بڑی بات موبائل ایکسچینج کی سہولت ہے، یعنی پرانا موبائل دیجئے اور قیمت کے فرق سے نیا موبائل لیجئے۔ نت نئی ٹیکنالوجی اور فیچرز نے لوگوں کی خواہشات بڑھادی ہیں، اب لوگ ضرورتاً فون کم اور شوقیہ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔‘

موبائل فونز خریدنے بیچنے یا ایکسچینج کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی ہے جو موٹرسائیکل کے بغیر کہیں نہیں آتی جاتی اس لئے مالز کے باہر پارک ہونے والی موٹرسائیکلز کا ’ڈھیر‘ لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اطراف کی سڑکیں تک بند ہوجاتی ہیں۔

موبائل مالز سے ’متاثرہ‘25 علاقے
شہر میں موبائل مارکیٹس اور مالز کی تعداد 2درجن سے بھی زیادہ ہے۔ وی او اے کے نمائندے نے مختلف اوقات میں ان علاقوں کا دورہ کیا تو کئی اہم پہلو سامنے آئے جیسا کہ صدر کی عبداللہ ہارون روڈ اور اس سے متصل گلیاں، سرینا ٹاورز سخی حسن، راشد منہاس روڈ گلشن اقبال، کھڈا مارکیٹ ڈی ایچ اے،پاپوش نگر ناظم آباد، باڑہ مارکیٹ نیوکراچی، شمامہ سینٹر گلستان جوہر، ملیر، شاہ فیصل کالونی، الفلاح، کلفٹن، لانڈھی ، کورنگی اور اورنگی ٹاوٴن سمیت 25سے زائد علاقے ایسے ہیں جہاں کی موبائل مارکیٹس عرصے سے بد ترین ٹریفک جام کا سبب بنی ہوئی ہیں لیکن اس کا کوئی متبادل یا مناسب انتظام اب تک وضع نہیں کیا جا سکا ہے۔

محمد سلمان رش کی وجوہات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں ’نت نئی ٹیکنالوجی جیسا کہ تھری جی اور فور جی کی آمد نے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر جدید ترین موبائلز کا دیوانہ بنا دیا ہے۔ پہلے تو لوگ کم ریم والے فون لیتے تھے یعنی زیادہ سے زیادہ 512ایم بی مگر اب ون جی ریم بھی کم پڑتی ہے۔ پہلے’ بلٹ ان میموری‘ نہیں آتی تھی اب 16جی بھی کی بھی بلٹ ان میموری والے فون عام ہیں۔ اسی طرح کیمرے جو پہلے بہت کم میگا پکسل کے آیا کرتے تھے اب وہ بارہ پکسل سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ اس جدید فیچرز اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کی چاہت نے موبائل مالز پر لوگوں کی قطاریں لگادی ہیں۔‘

بقول سلمان ’سب سے پہلے نوکیا فونز مارکیٹ میں آ ئے اور آتے ہی سب پر برتری لے گئے۔ اس کی مارکیٹ ویلیو ’کیو موبائل‘ کی آمد سے یکدم ختم سی ہو گئی۔ان دنوں چونکہ تھری جی اور فور جی موبائلز کی ڈیمانڈ زیادہ ہے لہذا ’موٹورولا‘ اس وقت سب سے زیادہ ہے جبکہ اس کے بعد ’سام سنگ‘ اور ’ہوائی‘ کا نمبر آتا ہے۔‘

مارکیٹس میں خریداروں کے رش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ چوری یا چھینے گئے موبائلز کو فوری فروخت کردیتے ہیں۔ ’سی پی ایل سی‘ یعنی سٹیزن لائژننگ کمیٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2013ء سے ستمبر 2013ء تک کی ایک سالہ مدت میں موبائل فون چھننے یا چوری ہونے کے 3223 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ جو واقعات رپورٹ نہیں ہوئے ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے کیوں کہ بیشتر لوگ متعدد وجوہات کی وجہ سے موبائل فونز چھننے کی رپورٹ درج ہی نہیں کراتے۔

چوری کے موبائل روکنے کا کارآمد طریقہ
محمد سلمان مارکیٹس میں کھلے عام چوری یا چھینے گئے موبائلز کی بات کو رد نہیں کرتے بلکہ وہ کہتے ہیں ’جب سے سی پی ایل سی نے طریقہ واضح کیا ہے تب سے مارکیٹس میں چوری کے موبائلز کی خریدوفروخت ختم ہوگئی تاہم چھوٹے علاقوں یا دکانوں پر در پردہ اب یہ کام جاری ہے۔ بڑی مارکیٹس میں جو بھی شخص بغیر ڈبے اور رسید کے موبائل فون بیچنے آتا ہے اس سے شناختی کارڑ طلب کیا جاتا ہے جس کا نمبر سی پی ایل سی کو کلیئر کرانے کے لئے دیا جاتا ہے اگر وہ کہتے ہیں کہ فون سے متعلق کوئی شکایت ان کے پاس درج نہیں تو اسے خریداجاتا ہے ورنہ نہیں۔‘

ایک موبائل ہزار فتنے
’کراچی والے‘ تسلیم کرتے ہیں کہ آج ’ایک موبائل۔۔ ہزار فتنوں‘ کا سبب بنا ہوا ہے۔ تخریب کاری، دہشت گردی، اسٹریٹ کرائم، چوری، چھننا چھپٹی۔ یہ سب مسائل موبائل فون سے جڑے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ بچوں اور بڑوں کو سالگرہ پر موبائل فون دینا اب ایک رواج بن چکا ہے، ٹی وی کوئز شوز میں موبائل بڑی دلکشی رکھتا ہے۔

XS
SM
MD
LG