رسائی کے لنکس

جی ہاں ۔۔ دیکھنے میں تو یہ عام سا موبائل فون ہی لگتا ہے مگر ہے یہ’ سیل فون گن‘ جس کے ذریعے اعشاریہ دو، دو سائز کی گولیوں کے 4 راوٴنڈز آسانی سے چلائے جاسکتے ہیں۔اور وہ بھی انتہائی قریب سے۔ وہ بھی ایسی مہارت سے کہ دیکھنے والوں کو پہلی نظر میں شک بھی نہ ہو۔
کمال کی بات یہ ہے کہ گن چلانے کے لئے کوئی ٹریگر دبانے کی بھی ضرورت نہیں ۔۔۔بلکہ ’کی پیڈ‘ دباتے ہی یہ اپنا کام کرجاتا ہے۔ ایک اور دلچسپ بات کہ فون کا انٹینا ہی دراصل’سیل فون گن ‘کا بیرل ہے جہاں سے گولی نکلتی ہے۔

پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے اس ’سیل فون گن‘ کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کی ملکی مارکیٹ میں دستیابی کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے سیکورٹی اداروں کو ہوشیار رہنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

پاکستان کے انگریزی اخبار ”ٹریبون “کی ایک رپورٹ کے مطابق انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی یعنی آئی ایس آئی نے سیکورٹی اداروں کوخط کے ذریعے اس جدیدگن سے آگاہ کرتے ہوئے اہلکاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ گن دیکھنے میں بالکل عام موبائل فون جیسی ہے لیکن اگراس پر سخت نظر نہ رکھی گئی یا احتیاط نہ برتی گئی توا س سے اہم شخصیات کی سلامتی کونقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس خبر نے سیکورٹی اداروں اور ان کے عہدیداروں کو ہلاکر رکھ دیا ہے کیوں کہ ابھی ان اداروں کے پاس اس ہتھیار سے نمٹنے کے لئے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے ۔ رپورٹ کے مطابق موبائل فون گنز یورپی ساخت کی ہیں اور یہ یوگوسلاویہ یا کروشیا میں تیار ہورہی ہیں۔

آئی ایس آئی کی جانب سے جاری کی گئیں تفصیلات کے حوالے سے ذرائع نے اخبار کو بتایا ہے کہ یہ گن اعشاریہ دو، دو جائز کی گولیوں کے چار راوٴنڈز چلانے کی ’صلاحیت ‘رکھتی ہے جس کے باعث یہ انتہائی خطرناک اور مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پشاور کی ’کرخانو مارکیٹ‘ میں یہ گن فروخت کے لئے موجود ہے ۔ اس کی قیمت 30ہزار ہے۔ رپورٹ میں تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ سیل فون گنز کی سپلائی ملک کے دیگر علاقوں میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے۔ آئی ایس آئی کے سیکورٹی اداروں کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یہ گن ہتھیاروں کی خرید و فروخت میں ملوث لوگوں میں مشہور ہورہی ہے لہذا انتہائی احتیاط اور اس پر بہت سخت نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

ایسے حالات میں جب کہ پہلے ہی امن و امان کو بہت سے خطرات درپیش ہیں،یہ گن اعلی سرکاری عہدیداروں کی زندگیوں کے لئے ایک نیا خطرہ ہے۔ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ چونکہ چلانا نہایت آسان ہے لہذا اس کا استعمال بہت قریب سے اور خاموشی کے ساتھ لوگوں کو نشانہ بنانے میں بھی کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ دیکھنے میں یہ موبائل فون ہی کی طرح ہے لہذا دہشت گردبھی اسے استعمال میں لاسکتے ہیں کیوں کہ ایسی جگہوں پر جہاں دہشت گرد عام ہتھیار استعمال نہیں کرسکتے وہاں اس گن کے استعمال میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG