رسائی کے لنکس

موبائل فون سے خارج ہونے والی برقی لہروں سے کینسر سمیت کئی موذی امراض میں مبتلا ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ تاہم ابھی اس سلسلے میں ٹھوس بنیادوں پر تحقیق کی ضرورت ہے۔

دنیا میں جس رفتار سے موبائل فون کا استعمال بڑھ رہاہے، اس سے منسلک خدشات اور خطرات بھی اسی طرح نمایاں ہو کرسامنے آرہے ہیں۔ کئی ماہرین خبردار کرچکے ہیں کہ موبائل فون سے خارج ہونے والی برقی لہروں سے کینسر سمیت کئی موذی امراض میں مبتلا ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ تاہم ابھی اس سلسلے میں ٹھوس بنیادوں پر تحقیق کی ضرورت ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ برقی مقناطیسی لہریں ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ یہ لہریں جتنی طاقت ور ہوں گی اور انسان جتنی زیادہ دیر تک ان کی زد میں رہے گا، صحت پر پڑنے والے مضر اثرات بھی اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ریڈیو کے ہائی پاور ٹرانسمیٹر آبادیوں سے میلوں دور ویران علاقوں میں لگائے جاتے ہیں۔

ہر موبائل فون کے اندر ایک چھوٹا سا ٹرانسمیٹر موجود ہوتا ہے، جو آپ کی آواز کو برقی لہروں میں بدل کر فضا میں پھیلا دیتا ہے، جسےقریب واقع موبائل فون کمپنی کا ٹاور وصول کرکے اسے اپنے سسٹم میں ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح موبائل فون میں ایک چھوٹا ساریسور بھی موجود ہوتا ہے جو آپ کے نمبر پر بھیجی جانے والی برقی مقناطیسی لہروں کو وصول کرکے انہیں آواز میں بدل دیتا ہے۔

ان دنوں ایسے موبائل فونز کثرت سے آرہے ہیں جو صرف ٹیلی فون ہی نہیں ہیں، بلکہ انٹرنیٹ سے منسلک ایک آلے کے طورپر بھی کام کرتے ہیں اور ان میں لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی کئی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ ان کے ٹرانسمیٹر زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں اور وہ انسانی صحت کے لیے زیادہ خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ماہرین اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ صحت کے لیے خطرے کے امکان کے باوجود، موبائل فون آج کے ترقی کرتے ہوئے عہد کی ایک اہم ضرورت ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے استعمال اور افادیت میں مزید اضافہ ہو گا۔ ان کا کہناہے کہ آپ چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے صحت کے لیے خطرے کو نمایاں طورپر کم کرسکتے ہیں۔

موبائل فون تیار کرنے والی کئی کمپنیاں صحت سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ ہیں اور ان دنوں اکثر موبائل فونز کے مینوئل میں مضر صحت برقی لہروں سے بچنے کی احتیاطی تدابیر بھی درج کی جاتی ہیں۔ مثلاً اپیل کمپنی کے نئے مقبول موبائل فون ’’ آئی فون فور‘‘ کے مینوئل میں لکھا ہے کہ فون سنتے وقت یا انٹرنیٹ استعمال کرتے وقت اسے اپنے جسم سے کم ازکم 15 سینٹی میٹر یعنی تقریباً پون انچ کے فاصلے پر رکھیں۔

اسی طرح بلیک بیری 9000 کے مینوئل میں درج ہے کہ ریڈیو فریکونسی کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے فون کو اپنے جسم سے تقریباً ایک انچ کے فاصلے پر رکھیں۔

ایک اور مقبول فون موٹورولا ڈبلیو 180 کے مینوئل میں تحریر ہے کہ فون استعمال کرتے وقت اسے اپنے جسم سے کم ازکم ایک انچ کے فاصلے پر رکھیں۔

موبائل فون سے خارج ہونے والی مضر صحت لہروں سے بچاؤ کے لیے امریکہ نے 2001ء میں موبائل فون کمپنیوں کے لیے راہنما اصول مرتب کیے تھے ، جن کے تحت امریکی مارکیٹ میں ایسے کسی بھی موبائل فون کی فروخت سے ممانعت کردی گئی تھی جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قوت سے زیادہ ریڈیو فریکونسی خارج کرتا ہو۔ تاہم ماہرین کا کہناہے سمارٹ فونز آنے سے یہ پابندی زیادہ مؤثر نہیں رہی کیونکہ ان میں ریڈیو فریکونسی، بلیوٹوتھ اور وائی فائی ٹرانسمیٹر نصب ہوتے ہیں اور جب تینوں ایک ساتھ کام کررہے ہوں تو ان سے خارج ہونے والی برقی قوت مقررکردہ حدسے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا استعمال ترک کیے بغیر آپ اس کے مضر صحت اثرات سے خود کو بچا سکتے ہیں ۔ جس کے لیے آپ کو صرف یہ کرنا ہوگا کہ اسے استعمال کرتے وقت اپنے جسم سے کم ازکم ایک انچ کے فاصلے پر رکھیں اور جب فون استعمال میں نہ ہوتو اسے کسی کور میں رکھیں تاکہ وہ آپ کے جسم کو براہ راست نہ چھو سکے۔ مگر یہ خیال رہے کہ موبائل فون کا کور کسی دھات کا نہیں ہونا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG