رسائی کے لنکس

بچوں کی فوج میں بھرتی روکنے کی مہم


بچوں کی فوج میں بھرتی روکنے کی مہم

بچوں کی فوج میں بھرتی روکنے کی مہم

بچوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی تنظیم یونی سیف نےوسطی افریقہ کے لیے بچوں کی سپاہی کے طور بھرتی کو بند کرنے پر زور دیا ہے۔ یونیسیف ماضی میں فوجی کے طور پر کام کرنے والے بچوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی کوشش بھی کررہی ہے۔

نائیجیریا، چاڈ، سوڈان، نیجر اور وسطی افریقی جمہوریہ اور یونی سیف کے عہدے داروں کی ایک کانفرنس انجامینا میں ہورہی ہے جس میں سرحد کے آر پار کے مسائل اور بچوں کا سپاہی کے طور پر جبری بھرتی سے متعلق موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

یہ تین روزہ کانفرنس اقوام متحدہ کی اس مہم کا حصہ ہے جس کاتعلق بچوں کے حقوق کا تحفظ اورانہیں مسلح تنازعات سے دور رکھنا ہے۔

چاڈ میں یونی سیف کی سرگرمیوں کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھرمیں مسلح تنازعات والے 30 علاقوں میں 18 سال سے کم عمر تقریباً ڈھائی لاکھ بچے شریک ہیں۔

مارزیئو بابیلی نے کہا کہ ایسے واقعات چاڈ اور سوڈان جیسے کمزور اورجنگ سے متاثرہ ملکوں میں ہورہے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ انجامینا میں ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد ان تمام پانچ ممالک کی جانب سے بچوں کی فوجیوں کے طور پر بھرتی بندکرنے کے معاہدے پر دستخط کرانا اور سابقہ فوجی بچوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونی سیف اس مسئلے پر قابو پانے اور بچوں کی بحالی کے لیے مذکورہ اُن حکومتوں کے ساتھ مل کرکام کررہی ہے۔

چاڈ میں یونی سیف گذشتہ تین برسوں کے دوران 800 سے زیادہ فوجی بچوں کو آزاد کروا چکی ہے۔ یونیسف کے عہدے دار کا کہنا ہے کہ وسطی ٰ افریقہ میں اس مسئلے کے حل میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ بچے اپنی مرضی سے فوجی بن جاتے ہیں کیونکہ فوجی کی حیثیت سے انہیں اپنے معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ فوج میں بھرتی ہونے والے بچے کو اپنے گھر اور کمیونٹی کے لیے فخر کا باعث سمجھا جاتا ہے۔

اس علاقائی کانفرس میں جمہوریہ کانگو، لائبیریا اور سیرا لیون سے تعلق رکھنے والے سابقہ فوجی بچوں کی شہادتیں بھی سنی جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG