رسائی کے لنکس

میچ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں کپتان کا کہنا تھا کہ، ’مجھے نہیں پتہ کہ ٹیم کو اب کیا ہو گیا ہے؟ یہ آسان ہدف ہمیں حاصل کرنا چاہیئے تھا۔‘

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے چیمپینز ٹرافی میں مسلسل دوسری شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ، ’دونوں میچوں میں بیٹسمینوں کی کارکردگی مجموعی طور پر مایوس کن رہی اور سوائے باؤلنگ کے، ٹیم کی مجموعی کارکردگی قابل ِ ذکر نہیں تھی۔‘

میچ کے بعد میڈیا سے بات چیت اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ، ’اس پچ پر یہ ایک آسان ہدف تھا لیکن میرے خیال میں بیٹنگ ناکام رہی۔ یہ ایک آسان اور سادہ سی بات تھی کہ ہمیں جیت کے لیے چار ساڑھے چار رن فی اوور سکور کرنا تھے لیکن ہم ایسا نہ کر سکے۔ مجھے نہیں پتہ کہ ٹیم کو اب کیا ہو گیا ہے؟ یہ آسان ہدف ہمیں حاصل کرنا چاہیئے تھا۔‘

مصباح الحق نے کہا کہ انہی بیٹسمینوں نے پاکستان اور یہاں انگلینڈ میں وارم اپ میچز میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ لیکن گذشتہ دونوں میچز میں انہی کی بیٹنگ ناکام دکھائی دی۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ بیٹسمین کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی ’انڈر 19‘ اور ’اے‘ ٹیموں کو آسٹریلیا اور انگلینڈ کے زیادہ ٹورز کروائیں جائیں۔

پاکستانی کپتان کے مطابق کھلاڑیوں کو اب گذشتہ دو میچز کی شکست بھول کر بھارت کے خلاف بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔ مصباح کے الفاظ، ’ہم ہر میچ کو اہمیت دیتے ہیں خصوصاً جب بھارت کے خلاف میچ ہو، اس لیے کھلاڑیوں کو بھارت کے خلاف شکست بھول کر مثبت کرکٹ کھیلنا ہوگی۔‘

چیمپینز ٹرافی میں پاکستان اور بھارت کا آمنا سامنا 15جُون کو ہوگا۔ اگر ویسٹ انڈیز نے آنے والے دنوں میں بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف میچ جیت لیے اور پاکستان بھارت کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا تو بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر پاکستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG