رسائی کے لنکس

’پیو رسرچ سنٹر‘ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 18 تا 34 برس کے نوجوان الگ رہنے کی بجائے اپنے والدین کے ساتھ رہنے کو ترجیح دینے لگے ہیں، جس کی وجہ سماجی سے زیادہ معاشی ضروریات بتائی گئی ہیں

امریکی معاشرے میں ایک بار پھر نوجوانوں میں اپنے والدین کے ہمراہ رہنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واشنگٹن کے ’پیو رسرچ سنٹر‘ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 18 تا 34 برس کے نوجوان الگ رہنے کی بجائے اپنے والدین کے ساتھ رہنے کو ترجیح دینے لگے ہیں، جس کی وجہ سماجی سے زیادہ معاشی ضروریات بتائی گئی ہیں۔

معاشی کساد بازاری کے خاتمے کے باوجود، امریکی نوجوانوں میں اپنے والدین کے ساتھ رہنے کے رجحان کو ’خوش آئند‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

’پیو رسرچ سنٹر‘ کے ایک سنیئر محقق، رچرڈ فرائی کی رپورٹ کے مطابق، 2010ء میں 18 تا 34 برس کے 69 فیصد افراد اپنے والدین سے الگ آزادانہ رہائش پزیر تھے۔

2010ء کی پہلی سہ ماہی میں ان کا تناسب کم ہو کر 67 فیصد رہ گیا۔، یعنی، صرف تین ماہ کی قلیل مدت میں والدین سے الگ رہنے والے نوجوانوں کی تعداد میں 2 فیصد کی کمی واقع ہوئی؛ جبکہ اپریل 2010ء سے 2015ء کے درمیان پانچ سال کے عرصے میں والدین کے ساتھ رہنے کو ترجیح دینے والے نوجوانوں میں 24 سے 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

’پیو رسرچ سنٹر‘ کی رپورٹ میں اس رجحان کی وجہ معاشی ضروریات کو قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ والدین کے ساتھ رہنے کو ترجیح دینے والے نوجوانوں میں بڑی تعداد بہترین تنخواہیں اور آمدن رکھنے والوں کی بھی ہے۔ یعنی، اس نئے رججان کو محض معاشی ضروریات قرار دینا مناسب نہ ہوگا۔

رپورٹ میں اس رجحان کے معیشت پر اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ الگ گھروں میں نہ رہنے سے ان خاندانوں کی ایک جانب بچت میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب نئے گھروں کی خریداری میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور ریئل اسٹیٹ کی مارکیٹ پر اس کے برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ماہرین اقتصادیات مارک زینڈی کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ مارکیٹ کو معمول پر لانے کے لئے ان نوجوانوں کو اپنے والدین سے الگ اپنے گھر خرید کر رہنے پر آمادہ کرنا ہوگا، کیونکہ اگر اس رجحان کو تبدیل نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG