رسائی کے لنکس

جنید جمشید اب نعت خوانی اور ثنا خوانی تک محدود ہو گئے ہیں۔ ایسا ہی کچھ علی حیدر نے بھی کیا ہے۔ وہ کم ہی اپنی آواز میں کچھ اور گاتے ہیں۔

پاکستان میوزک انڈسٹری کی روایتی چمک دمک پچھلے کچھ عرصے سے ماند چلی آرہی ہے۔ اس دوران اگر کوئی پاپ سنگر ابھر کر سامنے آیا بھی ہے تو بھارتی فلموں میں سنگنگ کے بعد یا پھر انٹرنیٹ پر ہٹ گانے دینے کے سبب۔
پاکستان میں موسیقی کے حوالے سے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں کے زیادہ تر گلوگار یا میوزک ڈائریکٹرز رمضان آتے ہی حمد، نعت یا منقبت پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ رمضان میں ان کے جو البم ریلیز ہوتے ہیں وہ بھی نعتیہ، حمدیہ یا ثناخوانی پر مشتمل ہوتے ہیں۔
گلوکاری کے مذہبی و دینی عقائد سے تضاد کے باعث موسیقی کو خیر باد کہنے والے 80ء کی دہائی کے مشہور پاپ سنگر جنید جمشید اب نعت خوانی اور ثنا خوانی تک محدود ہوگئے ہیں۔ ایسا ہی کچھ علی حیدر نے بھی کیا ہے۔ وہ اب نعت و ثناخوانی کے بعد کم ہی اپنی آواز میں کچھ اور گاتے ہیں۔ صوفیانہ کلام میں ان کی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔
میوزک پروڈیوسر عابد علی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں، ” گلوکاروں کی جانب سے حمد و نعت ریکارڈ کرانے کا مقصد رمضان میں بھی لائم لائٹ میں رہنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر گلوکاروں کو اس سے مالی فائدہ نہیں ہوتا لیکن نعت خوانی کے ذریعے وہ پابندی سے اسکرین پر دکھائی ضرور دیتے ہیں۔“
کمرشل طور پر کامیاب بہت سے گلوکارہ مثلاًجواد احمد اور ابرارالحق ماضی میں بھی نعت خوانی کرتے رہے ہیں۔ سنگر نجم شیراز کی نعت ”یہ معاملہ کوئی او ر ہے“ نے نہ صرف مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے بلکہ ان کے بعد آنے والے نوجوان گلوکاروں نے ان کی تقلید میں اسی طرز کی نعت خوانی کی۔
اے آر وائی میوزک کے اعلیٰ عہدیدار دانش خواجہ نے حال ہی میں انگریزی اخبار ’ٹری بیون‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ، ”بہت سے مین اسٹریم میوزیشن بھی رمضان میں نعت خواں بن جاتے ہیں۔ اور ایسا صرف پرانے گلوکار ہی نہیں کرتے، نئے گلوکار بھی اس صف میں شامل ہیں۔“
انہوں نے مزید بتایا ” پچھلے تین سال کے دوران اس ٹرینڈ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ہر روز حمد و نعت کی 20 وڈیوز موصول ہوتی ہیں اور ان میں فریحہ پرویز اور علی حیدر جیسے مستند گلوکار بھی شامل ہیں۔“
XS
SM
MD
LG