رسائی کے لنکس

یہ وہی چوراہا ہے جس پر بھارتی شہر حیدرآباد (دکن) کی عالمی پہچان رکھنے والی ’چار مینار‘ سے مشابہہ عمارت موجود ہے۔ برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ نے اسی بہادر آباد چورنگی کو دنیا کی 12 خوب صورت چورنگیوں میں شامل کرتے ہوئے اسے پانچواں نمبر دیا ہے

کراچی کے باسی انگنت مرتبہ بہادر آباد نامی چورنگی کے آس پاس سے گزرے ہوں گے۔ لیکن، شاید انہوں نے کبھی بھرپور توجہ سے یا نظر بھر کر اس چورنگی کو دیکھا بھی نہ ہوگا۔ لیکن، آج یہی چورنگی دنیا بھر میں کراچی کی مثبت پہچان بن کر ابھری ہے اور اس کے چرچے شہ سرخیوں میں ہیں۔

یہ وہی چوراہا ہے جس پر بھارتی شہر حیدرآباد (دکن) کی عالمی پہچان رکھنے والی ’چار مینار‘ سے مشابہہ عمارت موجود ہے۔ برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ نے اسی بہادر آباد چورنگی کو دنیا کی 12خوب صورت چورنگیوں میں شامل کرتے ہوئے اسے پانچواں نمبر دیا ہے۔

اعزاز کی بات یہ ہے کہ جہاں ایک جانب آسٹریلیا، فرانس، برطانیہ، وینیزویلا، میکسیکو، تھائی لینڈ، سوئٹزر لینڈ، امریکہ، پرتگال، جاپان اور بحرین میں واقع چورنگیوں کو دنیا کی خوب صورت اور منفرد چورنگیوں کا اعزاز دیا گیا ہے، وہیں بڑے اور ترقی یافتہ ممالک میں پاکستان کے شہر کراچی کا نام بھی شامل ہے۔

بہادر آباد چورنگی کی خوبصورتی کا راز دراصل ’چار مینار‘ میں پوشیدہ ہے جس کی تعمیر اور دیکھ بھال کا سہرا بہادر یار جنگ کوآپریٹیو ہاوٴسنگ سوسائٹی کا ذمہ ہے۔سوسائٹی کے دیرینہ ممبر، کراچی کے بزرگ شہری اور حیدرآباد دکن میں جنم لینے والے ایس اے حمید قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران اس عمارت سے جڑی بہت سی حقیقتوں سے پردہ اٹھتایا۔

ان کے مطابق، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ عمارت چار رخی ہے۔ ہر سمت کا عرض 36فٹ اور بلندی 30فٹ ہے۔ درمیانی حصہ چار محرابوں پر مشتمل ہے جس کی اونچائی بارہ فٹ اور عرض 13فٹ ہے۔ اس کا دو منزلہ بالائی حصہ خوشنما محرابوں سے مزین ہے اور اوپر چاروں کونوں پر 19فٹ بلند چار مینارتعمیر ہیں۔ میناروں کی سطح زمین سے بلندی 40 فٹ ہے۔

عمارت کے چاروں طرف مختصر حوض ہیں جن کا طول و عرض 18 فٹ اور 16فٹ سے کچھ زیادہ ہے۔ ساتھ ہی سبزے کے قطعات 31فٹ اور 37فٹ کے قریب ہیں۔

دن کے وقت سورج کی روشنی میں یہ عمارت دور سے جگمگاتی نظر آتی ہے تو رات کو اسے روشنیوں سے نہادیا جاتا ہے۔ چاروں جانب بڑی بڑی لائٹس موجود ہیں جو عمارت کے حسن کو دوبالا کر دیتی ہیں۔اس کا افتتاح 25ستمبر 2007ء کو بدست گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان ہوا جبکہ اس کاسنگ بنیاد اس وقت کے ٹاوٴن ناظم واسع جلیل نے 12دسمبر 2006ء میں رکھا تھا۔

چار مینار۔۔ تاج محل کی طرح ،محبت کی ایک اور نشانی ہے
ایس اے حمید قریشی نے وی او اے کو تاریخی حوالے سے بتایا کہ ’حیدرآباد دکن کی’اوریجنل‘ چار مینار تاج محل کی طرح ہی اس وقت کے بادشاہ قلی قطب شاہ اور دلنواز بھاگمتی ’حیدر محل‘ کی محبت کی نشانی ہے۔اس شہر کی بنیاد بھی قلی قطب شاہ نے ہی رکھی تھی۔ انہی کے پیار کی انمول داستان اس شہر کے گلی کوچے سناتے ہیں۔

اس داستان کا پہلا ورق ہی چار مینار ہے جو بظاہر پتھر اور گارے کی عمارت نظر آتی ہے، مگر دراصل تقدس کے گارے اور غم کے پتھروں میں محبت کے پانی کی آمیزش سے اس کی تعمیر ہوئی۔ اس کی ظاہری بناوٹ، خوب صورت، منقش محرابوں اور فلک بوس میناروں سے اسلامی عبادت گاہ کا تقدس جھلکتا ہے۔ تاریخی حوالے گواہ ہیں کہ چار مینار۔۔ چار صدیاں گزر جانے کے باوجود 1590ء سے آج تک دکنی تہذیب و ثقافت کی علامت ہے۔‘

اصل ’چار مینار‘کے ظاہری خدوخال
بہادر آباد چورنگی کے ایک دروازے کے قریب ہی حیدرآباد دکن کی مختصر تاریخ بھی رقم ہے جس کے مطابق شہر حیدرآباد کے عین درمیان میں بنائی گئی چار مینار کی اصل عمارت کے چاروں رخ چاروں سمیتوں کے موافق قائم کئے گئے ہیں۔ ہر سمت کا عرض 60 فٹ اور بلندی 30 فٹ ہے۔ ان کے مقابل چار بڑی شاہراہیں ہیں اور آمدورفت کے لئے زینے بنے ہوئے ہیں۔

دو منزلہ بالائی حصہ خوشنما محرابوں سے معبور ہے اور اوپر چاروں کونوں پر چار، 80 فٹ بلند مینار درجوں پر منقسم ہیں جن پر خوبصورت گلکاری کی ہوئی ہے جو دور سے ہی نظر آجاتی ہے۔ چاروں میناروں کی بلندی سطح زمین سے 160فٹ ہے۔ اس کی تعمیر پر چار صدی پہلے نو لاکھ روپے صرف ہوئے تھے۔

سنہ 1824 میں حضرت ناصرالدولہ (آصف جاہی) کے عہد میں زر کثیر سے باریک چونے کی استرکاری کی گئی اور 1889ء میں عمارت کی دوسری منزل پر چار گھڑیالیں چاروں سمتوں میں نصب کی گئیں۔ چار مینار کی چھت پر ایک خوبصورت مسجد، حوض اور خانقاہ موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG