رسائی کے لنکس

دو امریکی بیواؤں کی فلاحی تنظیم

  • فائزہ المصری

سوزین افغان بچیوں کے ساتھ

سوزین افغان بچیوں کے ساتھ

نائن الیون کے دہشت گرد حملوں میں بیوہ ہوجانے والی دو خواتین نے Beyond the 11th نامی ایک تنظیم قائم کی ہے جو افغان بیواؤں کو اپنی زندگیاں دوبارہ بنانے اور اپنے ملک کی تعمیرنو کے لیے وسائل اور مدد فراہم کرتی ہے۔

ایک المیے کے اثرات سے نکلنے کے لیے طاقت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے اور اکثر دوسروں کی مدد کرنے کے لیے اپنے دُکھ درد کو فراموش کرنا پڑتا ہے۔ Beyond the 11th انسان دوستی کے اسی جذبے کی کہانی ہے۔ Susan Retik Ger اور Patti Quigley دونوں کے شوہر گیارہ ستمبر کے دہشت گردوں کےحملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

Retik Ger کہتی ہیں کہ انھوں نے افغان بیواؤں کے لیے ان کی بستیوں میں تعلیم اور روزگار کے پروگرام شروع کیے۔ اس سے انہیں دلی سکون ملا اور ان کی زندگی با مقصد ہو گئی’’ میں سمجھتی ہوں کہ افغانستان کی تعمیرنو صحیح معنوں میں اسی طرح شروع ہو گی‘‘۔

ان کی فلاحی تنظیم Beyond the 11th ان دشواریوں کے بارے میں شعور بیدار کرتی ہے جو افغان عورتوں کو درپیش ہیں اور ان کے حالات بہتر بنانے کے لیے پیسہ جمع کرتی ہے۔ Retik Ger کہتی ہیں کہ 2003 میں جب سے انھوں نے یہ کام شروع کیا ہے وہ ا ب تک افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کو تقریباً چھہ لاکھ ڈالر کے عطیات بھیج چکی ہیں ’’ہم ایسے پروگرام منتخب کرتی ہیں جن سے کچھ آمدنی ہوتی ہو کیوں کہ ہمارے خیال میں ان عورتوں کو ایسے مواقع کی ضرورت ہے جن کے ذریعے ان کی اور ان کے گھرانوں کی گزر اوقات ہو سکے۔ اگر یہ کوئی کاروبار یا ہنر سیکھ لیں جس سے ان کا گزارہ ہو سکے تو انہیں اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کا موقع مِل جائے گا‘‘۔

مئی2006 ء میں Retik Ger اورQuigley افغانستان گئیں اور وہاں بہت سی ان عورتوں سے ملیں جنہیں ان کے بھیجے ہوئے عطیات سے فائدہ پہنچا تھا۔ بامیان میں عطیات وصول کرنے والی ایک تنظیم جس کا نام آرزو ہے عورتوں کو قالین بُننے کی مہارتیں سکھاتی ہے۔ اس طرح یہ عورتیں پیسہ کمانے لگتی ہیں‘‘۔

آرزونامی تنظیم کی ترجمان رضیہ جان کہتی ہیں کہ ’’نہ صرف یہ کہ یہ عورتیں قالین بنتی ہیں اور پیسہ کماتی ہیں، بلکہ ہماری یہ شرط بھی ہے کہ پندرہ برس سے کم عمر کا کوئی بچہ قالین نہیں بُن سکتا۔ ان بچوں کو لازمی طور پر اسکول جانا ہوتاہے‘‘۔

رضیہ جان اپنے پروگراموں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا خواندگی کا بھی ایک پروگرام ہے۔ وہ عورتیں جو ایک ڈالر بھی نہیں گِن سکتی تھیں، اب لکھنا پڑھنا سیکھ گئی ہیں اور اب اپنے بچوں کی مدد کر رہی ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہمیں وزارتِ تعلیم سے اعلیٰ تعلیم کے سرٹیفیکٹ کی اجازت مِل جائے‘‘۔

آرزو افغانستان میں عورتوں کا پہلا کمیونٹی سینٹر بھی چلاتی ہے۔ اس سینٹر میں ایک گرین ہاؤس ہے جہاں عورتیں پھول اور سبزیاں اگا سکتی ہیں۔

آرزو کے ٹی کلب میں عورتیں ایک دوسرے سے ملتی جُلتی ہیں اوران کے بچے کھیل کے میدان میں کھیل کود سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ رضیہ جان کہتی ہیں’’ بامیان میں کُل 81 گھرانے ہیں اور ہر گھرانہ تقریباً 20 سے 30 افراد پر مشتمل ہے۔ ہم انہیں صحت کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہاں کسی عورت کا ایک بھی بچہ ضائع نہیں ہوا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان سب کے ٹیکے لگ جائیں۔ ہم صحت کے تربیتی پروگرام چلاتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کی صحت بہتر ہو رہی ہے‘‘۔

سوزین صدر اوباما سے ایوارڈ وصول کررہی ہیں

سوزین صدر اوباما سے ایوارڈ وصول کررہی ہیں

Susan Retik Ger کو اس تنظیم کی ایک بانی کی حیثیت سے 2010 ء کا پریذیڈینشل سیٹیزنز میڈل دیا گیا جو ملک کا دوسرا اعلیٰ ترین اعزاز ہے ۔ اس طرح 12 دوسرے افراد کے ساتھ ان کی بے لوث خدمت کا اعتراف کیا گیا۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ ایک اکیلا انسان بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتا ہے۔

Retik Ger کہتی ہیں کہ میرے لیے دوسروں کی مدد کرنا خود اپنی مدد کا بہترین ذریعہ ثابت ہوا ہے ۔ یہ احساس بڑا اطمینان بخش ہے کہ افغانستان میں عورتوں اور بیواؤں کی مدد میں اورانہیں اپنے ملک کی تعمیرِ نو کے قابل بنانے میں، میں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG