رسائی کے لنکس

باچاخان یونیورسٹی کے رجسٹرار حامد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پیر کو یونیورسٹی انتظامیہ کے ایک اجلاس میں دہشت گرد حملے کے بعد سامنے آنے والی صورت حال اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ کے شہر چارسدہ میں گزشتہ ہفتے دہشت گرد حملے کا نشانہ بننے والی باچا خان یونیورسٹی پیر کو دوبارہ کھولی گئی، لیکن چند ہی گھنٹوں کے بعد انتظامیہ نے اسے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا۔

اس بات کا فیصلہ پیر کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل کریم مروت کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

باچاخان یونیورسٹی کے رجسٹرار حامد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پیر کو یونیورسٹی انتظامیہ کے ایک اجلاس میں دہشت گرد حملے کے بعد سامنے آنے والی صورت حال اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

حامد خان نے کہا کہ خراب موسم اور یونیورسٹی میں تعمیر و مرمت کے کام کی وجہ سے یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

حامد خان نے کہا یونیورسٹی کو دوبارہ کب کھولا جائے اس بات کا فیصلہ آئندہ چند روز کے بعد کیا جائے گا۔

پیر کو دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک دعائیہ تقریب کا انعقاد ہوا جس کے بعد یونیورسٹی میں پر امن ریلی کا بھی اہتمام کیا گیا۔

گزشتتہ ہفتے باچا خان یونیورسٹی پر ہوئے مہلک حملے کے بعد یونیورسٹی سمیت چارسدہ کے دیگر تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا تھا۔

پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ اس حملے کو افغانستان سے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور حملہ آور افغانستان ہی سے پاکستان میں داخل ہوئے۔

اتوار کو پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک معاہدہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اس معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں مگر افغانستان میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنے طور پر پاکستان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

گزشتہ بدھ کو چار حملہ آوروں نے باچا کان یونیورسٹی پر حملہ کیا تھا جس میں طلبا سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG