رسائی کے لنکس

چیٹنگ ایپس پر پابندی، بلاول کی ٹوئٹ، تنقید کے دہانے کھل گئے


پاکستان میں چیٹنگ ایپس پر زیر غور پابندی کے حق میں بلاول بھٹو زرداری اور شرمیلا فاروقی کی صف بندی نے نوجوان نسل کو طیش دلا دیا ہے۔ پی پی رہنماوٴں پر یکدم تنقید میں اضافہ ہوگیا ہے

پاکستان میں ’چیٹنگ ایپس‘ پر زیر غور پابندی کی خبر کیا آئی، پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پی پی رہنما شرمیلا فاروقی بھی اس پابندی کے حق میں آکھڑے ہوئے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹ کیا ہے ’ڈئیر برگرز!!! سوری فور اسکائپ، وائبر، واٹس ایپ۔۔۔معاف کرنا۔۔ لیکن دہشت گردوں کو پکڑنے کے لئے یہ ضروری ہے۔ اس لئے تین مہینے ایس ایم ایس پر گزارا کرو۔‘

شرمیلا فاروقی نے بھی نے بھی اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ، ’کراچی کو کریمنلز سے پاک کرنے کے لئے تین مہینے کی پابندی برداشت کرنا زیادہ بڑی قیمت نہیں۔‘

دوسری جانب ’اسکائپ‘، ’وائبر‘، ’واٹس اپ‘ او ر ’ٹینگو‘ پر پابندی کے فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ نوجوانوں کا ہے، جو اس فیصلے سے بالکل خوش نہیں۔

نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ’اپنے انداز سے‘ سوچتے ہوئے بلاول اور شرمیلا کی مخالفت پر محو حیرت ہے، ان کا کہنا ہے کہ بلاول جنہوں نے ابھی سیاست کا صحیح انداز سے آغاز بھی نہیں کیا اور جنہوں نے نوجوان نسل کو ہی اپنے ساتھ ملانا تھا، وہ اس قسم کا بیان دے کر اچھا تاثر نہیں دے سکے۔

کراچی یونیورسٹی کے طالبعلم نعمان احمد کا تو ’وائس آف امریکہ‘ سے بات چیت میں یہاں تک کہنا ہے کہ ’ٹیکنالوجی کا راستہ روک کر ملکی کامیابی کا سوچنا کم عقلوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ امن وامان کی بحالی ٹیکنالوجی پر پابندی سے ممکن نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو انہی کی جماعت کے سابق وزیرداخلہ بار بار موبائل فون سروس پر پابندی لگا کر کب کا یہ مسئلہ حل کرچکے ہوتے۔‘

سر سید یونیورسٹی سے فارغ التحصیل صبا نے بھی وی او اے سے گفتگو میں کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا ’حسن کمال یہ ہے کہ جو پابندی کے حق میں ہیں انہوں نے بھی سوشل میڈیا کا ہی سہارا لیا ہے۔۔‘

وہ مزید کہتی ہیں، ’میرے خیال میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے سخت سے سخت قانونی سزائیں اور دو ٹوک حکومتی پالیسی ہونی چاہئیے، وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ روز ہی اس کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے لئے سخت سے سخت قانون بنائے جائیں۔‘


ایک اور نوجوان روحیل کا کہنا ہے کہ، ’دہشت گردوں کو نام بنانے کے لئے پہلے موبائل فون سروس پر عارضی پابندی لگی، پھر مذہب کا معاملہ آیا تو یو ٹیوب پر پابندی لگی، اب کراچی آپریشن چل رہا ہے تو اسکائپ، واٹس اپ، ٹینگو اور وائبر پر پابندی کی باتیں ہورہی ہیں۔ کل خدا نہ خواستہ دہشت گردی بڑھی تو کیا حکومت لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر بھی پابندی لگادے گی؟‘

سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سوشل رابطوں کی ویب سائٹس پر پابندی کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندی آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان سوفٹ وئیر ہاوٴس ایسوسی ایشن کی صدر جہاں آرا نے ٹوئٹر پر اپنے تاثرات میں کہا ہے کہ’یہ پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے کو روکنا ہوگا۔‘

صوبہ سندھ کے وزیر اطلاعات و نشریات شرجیل میمن، جنہوں نے تین ماہ کے لئے مفت چیٹنگ سافٹ وئیر اور ایپس پر پابندی لگانے سے متعلق فیصلے پر زور دیا تھا ان کا کہنا ہے کہ، ’پابندی کے باعث صوبے سندھ کے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم، ہم معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین ماہ کے دوران سندھ حکومت ان سوشل نیٹ ورکس میسنجرز کے سافٹ ویئرز پر گرفت مضبوط کرلے گی، جس کے بعد یہ سروسز بحال کردی جائے گی۔‘
XS
SM
MD
LG