رسائی کے لنکس

بیوی اور بچوں کی شہریت امریکی ہے ، چوہدری نثار کا اعتراف


بیوی اور بچوں کی شہریت امریکی ہے ، چوہدری نثار کا اعتراف

بیوی اور بچوں کی شہریت امریکی ہے ، چوہدری نثار کا اعتراف

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی بیوی اور بچوں کی شہریت امریکی ہے ۔انہوں نے یہ اعتراف منگل کو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے یہ اعتراف وکی لیکس کی جانب سے ان کے اہل خانہ کی امریکی شہریت کے حوالے سے سامنے آنے والی خبر کے تناظر میں کیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں انہو ں نے کہا کہ ان کے اہلخانہ کی شہریت کے بارے میں حقائق کو صحیح تناظر میں پیش نہیں کیا گیا، محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں خاندانی مسائل کے باعث میرے بچوں کو لاہور سے امریکی پاسپورٹ دے کر امریکہ روانہ کیا گیا۔ خاندانی معاملہ سلجھنے کے بعد گزشتہ 25 سال سے میرے بیوی بچے پاکستان میں مقیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی شہریت کبھی نہیں چھپائی ۔ امریکی قانون کے تحت بچوں کے بالغ ہونے تک ان کی شہریت کا فیصلہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے پہلے مسلمان اور پھر پاکستانی ہوں، امریکہ کے ساتھ یکطرفہ تعلقات نہیں چاہتے، پاکستان اور مسلمانوں کے مفادات کا ہر فورم پر پہلے بھی دفاع کیا ہے آئندہ بھی کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ وکی لیکس کے حوالے سے بعض باتیں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔ میں نے 30 سالہ سیاسی زندگی میں منافقت ، فریب، کرپشن اور اقرباپروری کے حوالے سے ہمیشہ حق بات کرنے کی کوشش کی ہے،سیاسی زندگی میں نشیب وفراز آتے ہیں کبھی ہم حکومت میں رہے اور کبھی اپوزیشن میں ،مشکلات بھی آئیں اور بڑی دلفریب قسم کی پیشکش بھی ہوئیں تاہم ایک ہی جماعت سے اپنا تعلق قائم رکھا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ 6 مرتبہ وفاقی وزیر اور سینئر وزیر بنا ،اپنے بیوی بچوں اور دیگر اہل خانہ کو ہمیشہ پروٹوکول اور سیاست سے دور رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وزارتوں کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری عزت نفس برقرار رہے اور اس پر کوئی حملہ نہ کرے۔ میرے خاندان کی چار پشتوں نے دفاع وطن کیلئے خدمات سرانجام دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وکی لیکس کا پیرا گراف اس وقت کی امریکی سفیر نے میرے بارے میں جو تجزیہ بھیجا اس میں یہ کہا گیاتھا کہ ”یہ قوم پرست “ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کھلے عام یہ بات کی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی دوستی کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ امریکہ کی سابق بش حکومت نے جو اقدامات اٹھائے اس سے عالم اسلام کے ساتھ تہذیبی جنگ کا تاثر پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی نمائندے جان کیری اور دیگر نمائندوں نے میاں نوازشریف کے ساتھ ملاقات کی جس میں شہبازشریف، اسحاق ڈار اور وہ خود موجود تھے۔ انہوں نے ملاقات کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ ”آپ نے دوستی تو ایک ڈکٹیٹر کے ساتھ کر رکھی ہے“۔ معاملات اتنی گرما گرمی تک پہنچے کہ امریکی سفیر کو بیچ میں آنا پڑا۔ ایک اور ملاقات میں، میں نے ان سے کہا کہ آپ نے افغانستان کی جنگ پاکستان پر مسلط کر دی ہے اور ہمارے ملک کو میدان جنگ بنا دیا ہے۔ انہوں نے ہم سے پوچھا کہ حالات کیسے درست ہوسکتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ امریکہ اس خطے سے نکل جائے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ ملاقات میں بھی ملکی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے حق پر مبنی موقف اختیار کیا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ 80 کی دہائی میں میری شادی امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد خاتون کے ساتھ ہوئی۔ یہاں آکر ان کی پاکستانی شہریت دوبارہ بحال ہوئی۔ میرے سسر 70 کی دہائی میں پاکستان چھوڑ کر امریکہ میں مقیم ہوئے اور وہاں جاکر انہوں نے کاروبار کو ترقی دی۔ میرے خاندان میں 90 کی دہائی کے دوران کچھ مسائل پیدا ہوئے۔ میرے سسرال والوں کے محترمہ بینظیر بھٹو سے مراسم تھے۔ میرے بچوں کو امریکی شہریت دینے کی بات ہوئی تو میں نے اس وقت ایڈووکیٹ شیخ اکرم کے ذریعے امریکی سفارت خانے کو ایک قانونی نوٹس بھیجا کہ خاندان میں مسائل ہوتے ہیں۔ بعدازاں میرے بچوں کو امریکی پاسپورٹ دے کر امریکہ روانہ کر دیا گیا۔ میں اس کی تشہیر نہیں چاہتا تھا مگر میرے سسرال والوں نے اس کی تشہیر کی۔ بعد میں خاندان والوں کی مداخلت سے معاملات درست کرائے اور میرے بچے واپس آگئے اور معاملہ خاندانی طور پر رفع دفع ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد میں امریکہ میں داخل نہیں ہوا۔ امریکہ کے خلاف نہیں بطور مسلمان اس کی پالیسیوں سے اختلاف ہے، کسی بھی اجلاس میں پاکستان اور مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کبھی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ میری فیملی 25 سال میں صرف ایک مرتبہ علاج کیلئے امریکہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے گرین پاسپورٹ پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکیوں کے ساتھ بطور قوم ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے۔ نائن الیون کے باعث مچنے والی اندھیر نگری کو مدنظر رکھ کر حکومتی سطح پر ان تعلقات کا ازسرنو تعین ہونا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی دعوت کے باوجود امریکہ نہیں گیا۔ ہم امریکہ کے ساتھ یک طرفہ تعلقات نہیں رکھنا چاہئے اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ امریکہ کی یکطرفہ ٹریفک مسلمانوں کے خلاف نہیں چلنی چاہئے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ میرے بچوں کے امریکی پاسپورٹ کی برطانیہ میں نہیں پاکستان میں تجدید ہوئی ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ایمل کانسی کے حوالے سے ایک منظم پراپیگنڈے کے تحت مجھے ملوث کیا گیا۔ میاں نوازشریف اس وقت ملک سے باہر تھے اور مشرف دور میں یہ بات زیادہ شدت سے پھیلا ئی گئی۔

XS
SM
MD
LG