رسائی کے لنکس

سندھ کے شہر سکھر، حیدرآباد، نوابشاہ اور دیگر شہروں میں امتحانی مراکز میں کھلے عام نقل کا بازار گرم ہے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ محکمہ تعلیم سندھ اس بار بھی نقل کے رجحان کو ختم کرنے میں ناکام رہے

پاکستان کے اہم شہر کراچی سمیت سندھ بھر کے تعلیمی مراکز میں ان دنوں بوٹی مافیہ، کارتوس اور پھَروں کا موسم ہے۔

ارے جناب، ’بوٹی مافیہ‘ سے مراد کوئی جڑی بوٹی نہیں، اور کارتوس سے مراد پستول میں استعمال ہونے والی کوئی کارتوس کی گولی نہیں۔ بلکہ بوٹی، کارتوس اور پھرے اُن پرچیوں کے نام ہیں جو اِن دنوں سندھ کے مختلف امتحانی مراکز میں ہونےوالے پرچوں میں طلبہ و طالبات کو نقل کرانے کیلئےاستعمال کئےجارہے ہیں۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی سندھ میٹرک بورڈ کے تحت ہونےوالے نویں اور دسویں جماعتوں کے سالانہ امتحانات شروع ہوتے ہی یہ 'بوٹی مافیہ'، 'کارتوس' اور ’پھرے والے‘ بھی سرگرم ہوجاتے ہیں۔

وی او اے کی نمائندہ نے تفصیل جاننے کیلئے کراچی کے کئی امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔ ایک اسکول کا ہی ایک چپراسی چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بھائی اندر جانا منع ہے اور موبائل فون لانے پر پابندی ہے اور نقل کرنےوالے طلبہ کو3 سال تک امتحان میں نہیں بیٹھنے دیا جائے گا۔ اس سمیت وہ جن صاحب سے مخاطب تھا انھیں آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ سمجھا رہا تھا، یعنی کہ ’بوٹیوں‘ کی قیمت طے کر رہا تھا۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بظاہر کہیں چوری چھپے نقل کا رجحان موجود ہے۔

بوٹی مافیہ کون ہیں؟
بوٹی مافیہ میں شامل وہ افراد ہیں جو اکثر اسکولوں میں چپراسی، امتحانی مراکز میں کام کرنے والا عملہ، امتحانی نگراں، پولیس اہلکار، اور نقل کرانے کیلئے آنےوالے طلبہ و طالبات کے جان پہچان کے افراد ہیں، جو آنکھ جھکتے ہی اپنے طلبہ و طالبات کو 'بوٹی' پھرے کی پرچی پہنچا دیتے ہیں۔

بوٹی مافیا کا کام
بوٹی مافیا میں شامل ان دنوں امتحانی مراکز میں نہایت چالاکی سے اپنا کام سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔ ان کے پاس ہر وہ طریقہ ہے جو کسی طالب علم کو نقل کرانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بوٹی مافیا کے افراد امتحانی مراکز میں بیٹھے طلبہ کو کلاس روم کے دروازوں اور کھڑکیوں سے سوالات کے جوابات کے کتابوں کے صفحات کو کسی پستول کے 'کارتوس' کی شکل بناکر پھینک کر پہنچا دیتے ہیں؛ جبکہ امتحانی پرچے کے دوران پانی پلانےآنے والے افراد بھی پانی کے ساتھ 'بوٹیوں' اور'پھروں' کا 'کاروبار 'کرنے میں مگن ہیں۔

فوٹو اسٹیٹ والوں کی چاندی
امتحانی مراکز بننے والے سندھ بھر کے اسکولوں کے باہر موجود 'فوٹو اسٹیٹ' والوں کی تو جیسے 'چاندی' ہوگئی ہے، جہاں نقل عام ہو رہی ہے۔ وہاں فوٹو اسٹیٹ شاپس کا کردار بھی شامل ہے۔ نقل کروانے والے افراد سوالات کے جوابات کی کاپیاں بنوا کر منہ مانگے داموں فروخت کر رہے ہیں، جنھیں طلبہ کاپیوں کے بیچ چھپاکر با آسانی نقل کرلیتے ہیں۔

موبائل فون پرپابندی، مگر سب چلتا ہے۔
سندھ کے مختلف شہروں میں ہونےوالے میٹرک کے امتحانات میں طلبہ کو موبائل فون لانے پر مکمل پابندی کے اعلان کے باوجود طلبہ موبائل فون ساتھ لےجاتے ہیں۔ موبائل میسجنگ کے ذریعے سوالات کے جوابات حاصل کرنا بھی نقل کے طریقوں میں شامل ایک ایسا ہی طریقہ ہے جس سے سندھ کے طلبہ پورے پورے مستفید ہو رہے ہیں۔یہاں سوال بھیجا وہاں جواب 'ایس ایم ایس' کے ذریعے موصول۔

امتحانات کیلئے دفعہ 144 نفاذ صرف 'سندھ' میں
صوبہ سندھ پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں میٹرک کےامتحانات کیلئے حکومت سندھ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کرکے سخت سیکیورٹی اقدامات کرکے سندھ بھر کے تمام شہروں میں امتحانی مراکز کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کیجاتی ہے۔

سندھ کے بیشتر شہروں میں دفعہ 144 کے باوجود طلبہ و طالبات میں نقل کا رجحان جاری ہے، جسکی بڑی وجہ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار ہیں، جو رشوت لے کر طلبہ و طالبات کو نقل کرانے میں مصروف ہیں۔ وہ کہتے ہیں نا 'پولیس کا ہے کام مدد آپ کی'۔

اطلاعات کے مطابق، سندھ کے شہر سکھر، حیدرآباد، نوابشاہ اور دیگر شہروں میں امتحانی مراکز میں کھلے عام نقل کا بازار گرم ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ محکمہ تعلیم سندھ اس بار بھی نقل کے رجحان کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں طلبہ مختلف طریقوں سے نقل کررہے ہیں۔

کئی امتحانی مراکز میں نقل کرتے ہوئے طلبہ کو پکڑا بھی جاتا ہے، تو بعدازاں چند ہزار لےکر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

بوٹی مافیا میں شامل افراد ان اقدامات سے ایسی نسل کو پروان چڑہا رہے ہیں جو آگے چل کر روشن پاکستان کو خواب کبھی پورا نا کر سکے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح کے اقدامات سے کل ان کے خود کے بچوں کا مستقبل بھی اندھیرے میں ڈوب سکتا ہے اور ایسے طلبہ مستقبل میں قوم کے معمار بننے کے بجائے ملک کیلئے بوجھ بن جاتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG