رسائی کے لنکس

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر نبض یہ بتائے کہ دل ایک منٹ میں 100 مرتبہ دھڑکا ہے یا پھر ایک منٹ میں دل دھڑکنے کی رفتار 50 سے بھی کم ہے، تو یہ دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کا پتہ دیتی ہے

فالج کے مریضوں کی نبض دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے آیا مریض پر فالج کا ایک اور حملہ ہونے والا ہے۔ یہ امر ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

تحقیق کے مطابق، فالج کے مریضوں کی نبض اور دل کی بے ترتیب دھڑکنوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مریض میں فالج کے ایک اور حملے کا امکان ہے یا نہیں۔

جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق کے ماہرین کے مطابق فالج کے مریضوں میں 40 فی صد مریضوں میں یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ انہیں اگلے 10 برس کے اندر اندر فالج کے ایک اور حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ نبض دیکھ کر دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کا حساب لگایا جا سکتا ہے جو کہ فالج کے حملے کی ایک اہم علامت ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر مریض کی نبض یہ بتاتی ہو کہ اس کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی ہیں تو مریض کو فوری طور پر ہسپتال لے جانا چاہیئے تاکہ فالج کے ایک اور حملے سے بچا جا سکے۔

تحقیق دانوں نے 256 مریضوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اس کا جائزہ لیا۔ یہ تمام وہ مریض تھے جن پر2012ء کے آخر یا 2013ء کے اوائل میں فالج کا حملہ ہو چکا تھا۔ مریضوں کے رشتہ داروں کو ان کی نبض دیکھنا سکھایا گیا۔ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو اس بارے میں شائع شدہ معلومات بھی دی گئیں اور ساتھ ہی سٹاپ واچ بھی تاکہ وہ نبض دیکھ سکیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر نبض یہ بتائے کہ دل ایک منٹ میں 100 مرتبہ دھڑکا ہے یا پھر ایک منٹ میں 50 سے بھی کم مرتبہ دھڑکا ہے تو یہ دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کا پتہ دیتی ہے۔

تحقیق میں پتہ چلا کہ 172 مریضوں کے دل کی دھڑکنیں نارمل، جبکہ 57 کی بے ترتیب تھیں۔ بہت سے مریضوں نے اپنی نبض خود چیک کی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ نبض چیک کرنے کا یہ چھوٹا سا عمل آپ کو بڑے خطرے سے بچا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG