رسائی کے لنکس

چہلم کی مناسبت سے شہر بھر میں سخت اور فول پروف سیکورٹی پلانز تیار کئے گئے ہیں۔ تاہم، سیکورٹی اداروں کی جانب سے سب سے حساس مقام کراچی کی سینٹرل جیل اور اس کے اطرافی علاقوں کو قرار دیا جا رہا ہے

کراچی میں، ہفتہ 13 دسمبر کو حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے چہلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل انتہائی حساس مقام ہوگا۔ شہر میں 12اور 13دسمبر کو موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی، جبکہ موبائل فون سروس بھی معطل کئے جانے کے امکانات ہیں۔ نیز ہیلی کیم کے ذریعے جلوس کی کوریج پر بھی مکمل پابندی عائد ہوگی۔

چہلم کی مناسبت سے شہر بھر میں ماتمی جلوس نکالے جانے کے علاوہ امام بارگاہوں سے علم و ذوالجناح کے جلوس بھی برآمد ہوں گے۔ اس حوالے سے شہر بھر میں سخت اور فول پروف سیکورٹی پلانز تیار کئے گئے ہیں۔ تاہم، سیکورٹی اداروں کی جانب سے سب سے حساس مقام کراچی کی سینٹرل جیل اور اس کے اطرافی علاقوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔

سیکورٹی اداروں کے اعلیٰ افسران اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ جیل پر حملوں کی تازہ دھمکیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے، چہلم کے موقع پر سخت ترین سیکورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت، سینٹرل جیل کی سیکورٹی ہر ممکنہ حد تک سخت کی جارہی ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے نے سینٹرل جیل کی عمارت اور اس کے اطرافی علاقوں کے دورے کے موقع پر جن سیکورٹی اقدامات کو نوٹ کیا۔ ان میں سب سے واضح اقدام یہ ہے کہ جیل کی پوری عمارت کے گرد ریت سے بھرے قدآدم کے مساوی بورے رکھ دیئے گئے ہیں جن پر آہنی جال بھی بچھایا گیا ہے۔

ریت میں دھماکے کی قوت کوانتہائی کم کرنے کی بخوبی صلاحیت ہوتی ہے اسی لئے حساس عمارتوں کے گرد حفاظتی دیوار کے طور پر ریت کے بڑے بڑے بورے رکھ دیئے جاتے ہیں، تاکہ دھماکا ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ جانی اور مالی نقصانات سے بچا جاسکے۔

علاوہ ازیں، عمارت پر واچ ٹاورز بنائے گئے ہیں، جن پر ’نشانچی‘ تعینات ہیں جو 24 گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ارد گرد بھی پولیس کا گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے؛ جبکہ، جیل کے چاروں اطراف مرکزی گیٹ کے ساتھ ساتھ، یونیورسٹی روڈ اور پی آئی بی کالونی کی جانب آنے جانے والی شاہراہوں پر کنکریٹ کے بلاکس بھی موجود ہیں۔ جیل کے اندر موجود واچ ٹاورز پر زپر لائٹ مشین گن نصب کر دی گئی ہے۔

گزشتہ ماہ سینٹرل جیل سے متصل غوثیہ کالونی کے ایک مکان سے سینٹرجیل تک ایک خفیہ سرنگ کا انکشاف ہوا تھا جس کا مقصد محرم کے موقع پر جیل میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد وہاں موجود دہشت گردوں کو جیل سے فرار کرانا تھا۔

محرم کا دن اس وجہ سے چنا گیا تھا کہ اس روز شہر کے تمام سیکورٹی ادارے جلوسوں کی سیکورٹی پر مامور ہوتے ہیں اور ایسے میں جیل میں پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کی توجہ نسبتاً کم ہوتی۔

پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ سرنگ کھو دینے کے الزام میں گرفتار ایک ملزم نے تفتش کے دوران انکشاف کیا تھا کہ اگر ان کا منصوبہ محرم میں کامیاب نہ ہوا تو وہ چہلم کے موقع پر دوبارہ اپنے منصوبے پر عمل درآمد کی کوشش کریں گے۔ اس انکشاف کے بعد سے سینٹرل جیل کو سب سے حساس مقام قرار دیا گیا ہے۔

سندھ حکومت نے چہلم کے موقع پر جمعہ 12دسمبر اور ہفتہ 13دسمبر کو موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ محکمہٴداخلہ سندھ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چہلم کے دن ہیلی کیم کے ذریعے جلوس کی کوریج پر بھی مکمل پابندی ہوگی، جبکہ موبائل فون سروس بھی بند کئے جانے کا امکان ہے۔

ادھر، ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کے مطابق لاہور پولیس پہلے ہی ڈی سی او، محمد عثمان اور محکمہٴداخلہ پنجاب کو حساس علاقوں میں ڈبل سواری پر پابندی اور موبائل فون سروس بند رکھنے کی علیحدہ علیحدہ تحریری درخواستیں ارسال کر چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG