رسائی کے لنکس

چرنو بیل حادثہ کے 25 برس مکمل ہونے پر تقاریب


چرنو بیل حادثہ کے 25 برس مکمل ہونے پر تقاریب

چرنو بیل حادثہ کے 25 برس مکمل ہونے پر تقاریب

چرنوبیل ایٹمی بجلی گھر میں پیش آنے والے انسانی تاریخ کےبدترین جوہری حادثے کے 25 سال مکمل ہونے پر حادثے میں ہلاک اور متاثر ہونے والے افراد کی یاد میں یوکرین میں مختلف تقاریب کا کا سلسلہ جاری ہے۔

چرنوبیل میں پیش آنے والے حادثہ کی یاد میں تقاریب کا آغاز پیر اور منگل کی درمیانی شب روسی آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ کی جانب سے عین اس وقت دارالحکومت 'کِیو' کے مرکزی گرجا گھر کی گھنٹی بجانے سے ہوا جب آج سے 25 برس قبل جوہری بجلی گھر میں پہلا دھماکہ ہوا تھا۔

26 اپریل 1986ء کی شب چرنوبیل کے جوہری بجلی گھر میں ہونے والے ابتدائی دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دھماکے کے باعث بجلی گھر سے نکلنے والی تابکاری سے آنے والے دنوں میں مزید 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یوکرین اس وقت سوویت یونین کا حصہ تھا اور اس وقت کے سوویت حکام نے چرنوبیل میں ہونے والے دھماکے کی خبر دنیا سے تین روز تک چھپائے رکھی تھی۔

بعد ازاں سوئیڈن کے ایک تجزیاتی مرکز کی جانب سے تابکاری کی شدت میں اچانک ہونے والا انتہائی اضافہ ریکارڈ کیے جانے کی خبر نشرہونے کے بعد سوویت حکام نے عالمی برادری کو چرنوبیل حادثے کے متعلق آگاہ کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق چرنوبیل بجلی گھر سے خارج ہونے والی تابکاری 1945ء میں ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم کی تابکاری سے 400 گنا زیادہ تھی اور اس تابکاری کے اجزاء پر مشتمل بادلوں نے روس، بیلا روس اور یورپ کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت کے ایک محتاط اندازے کے مطابق چرنوبیل کی تابکاری سے 4000 افراد ہلاک ہوسکتے تھے۔

چرنوبیل حادثہ کو 25 برس ایک ایسےوقت میں مکمل ہوئے ہیں جب دنیا زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے جاپانی جوہری بجلی گھر کی تباہی کے نتیجے میں ایک اور جوہری حادثے کا سامنا کر رہی ہے۔

یوکرین کے صدر وکٹر یونکووچ نے چرنوبیل حادثہ کے 25 برس مکمل ہونے پر جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا کی کوئی قوم "اس طرح کی تباہی کے اثرات اور نتائج " کا تنہا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

ادھر روسی صدر دمیتری میدویدیو نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے ملک آٹھ عالمی طاقتوں کی نمائندہ تنظیم 'گروپ آف ایٹ' کے آئندہ ماہ ہونے والے سربراہی اجلاس میں جوہری تنصیبات کے حفاظتی اقدامات میں اضافے کیلیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا جائے گا۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ روسی صدر منگل کی شام چرنوبیل کے مقام پر حادثہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں منعقد کی جانے والی مرکزی تقریب میں اپنے یوکرینی ہم نصب کے ہمراہ شریک ہونگے۔

1986ء کے چرنوبیل حادثہ کے بعد بجلی گھر کے ارد گرد 30 کلومیٹر قطر کے علاقہ کو آبادی کیلیے ممنوعہ قرار دے دیا گیا تھا۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ممنوعہ علاقے کے ارد گرد کی زمینیں اور وہاں کاشت کی جانے والی فصلیں آج 25 برس بعد بھی تابکاری کے اثرات سے محفوظ نہیں اور انسانی صحت کیلیے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔

دریں اثناء چرنوبیل حادثہ کے بعد علاقے کو تابکاری سے پاک کرنے کی مہم میں حصہ لینے والے ہزاروں کارکنوں نے اپنے معاوضے اور سہولیات میں کمی کے خلاف یوکرین کے دارالحکومت 'کِیو' میں مظاہرہ کیا ہے۔

مذکورہ کارکنوں کی اکثریت بعد ازاں تابکاری کا شکار ہوگئی تھی جس کے باعث حکومت کی جانب سے انہیں خصوصی معاوضوں اور مراعات کا مستحق قرار دیا گیا تھا۔

تاہم احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے انہیں دی جانے والی ماہانہ پنشن میں کٹوتی کردی گئی ہے جس کے باعث وہ اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنے اور ادویات خریدنے کے قابل نہیں رہے۔

XS
SM
MD
LG