رسائی کے لنکس

شکاگو: سکھ پر حملہ، ملزم گرفتار تحقیقات کا آغاز


’سکھ کولیشن‘ کی ترجمان، سمرجیت سنگھ نے کہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کام کی ضرورت ہے اور ان کی این جی او اس سلسلے میں حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے

شکاگو میں مبینہ نفرت کی بنیاد پر 53 سالہ سکھ امریکی اندرجیت سنگھ مکھر پر گھونسوں کی بارش کرکے اسے لہولہان کر دیا گیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، اور تحقیقات شروع کر دی ہے۔

سکھوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’سکھ کولیشن‘ کی ترجمان، سمرجیت سنگھ نے وائس آف امریکہ کے استفسار پر بتایا کہ اندرجیت سنگھ کا یہ واقعہ کوئی نیا واقعہ نہیں۔

سمرجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کام کی ضرورت ہے اور ان کی این جی او اس سلسلے میں حکام کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔

انھوں نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اندرجیت سنگھ گروسری کی خریداری کے لئے اپنی گاڑی پر جا رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والی کار کو راستہ دینے کے لئے اسے رکنا پڑا۔

بتایا جاتا ہے کہ پچھلی کار سوار اپنی گاڑی سے نکل کر اندرجیت سنگھ کی جانب بڑھا، اور مبینہ طور پر، انھیں ’دہشت گرد‘ اور ’بن لادن‘ کہتے ہوئے اس پر مکوں کی بارش کردی، جس کے نتیجے میں، اس کے چہرے پر شدید ضربیں آئیں اور وہ موقع پر ہی بے ہوش ہوگیا۔

تاہم، لوگوں نے اُنھیں قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں ان کے چہرے پر چار ٹانکے لگائے گئے۔ مکوں کی بارش سے ان کا چہرہ سوج گیا تھا۔

’سکھ کولیشن‘ کی ترجمان سمرجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ سانحہ نائن الیون کے بعد، بقول ان کے، امریکہ میں سےسکھوں پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ ان کی داڑھی اور پگڑی کو گویا دہشت گردی کی علامت سے منسلک کردیا گیا ہے۔

شکاگو کے اس واقع کے بعد، سکھوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

سکھوں کے ایک رہنما، ڈاکٹر امرجیت سنگھ نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ داڑھی اور پگڑی سکھوں کی پہچان ہے اور لوگ غلط فہمی میں سکھوں پر حملہ کرتے ہیں۔ لیکن، پولیس کی جانب سے فوری کارروائی کا نتیجہ ہے کہ حالات قابو سے باہر نہیں۔

ا

XS
SM
MD
LG