رسائی کے لنکس

سفید فام پر چار سیاہ فاموں کے تشدد کی لائیو ویڈیو


شکاگو پولیس کی جانب سے جاری کردہ یہ تصویر برٹنی کوونگٹن کی ہے جو معذور سفید فام پر تشدد کرنے والوں میں شامل تھی۔ 5 جنوری 2017

شکاگو پولیس کی جانب سے جاری کردہ یہ تصویر برٹنی کوونگٹن کی ہے جو معذور سفید فام پر تشدد کرنے والوں میں شامل تھی۔ 5 جنوری 2017

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چار سیاہ فام افراد ایک سفید فام شخص پر کئی بار مکوں سے حملے کرتے ہیں ۔ سفیدفام شخص بندھا ہوا ہے اور اس کے منہ پر ٹیپ لگی ہوئی ہے۔

امریکی صدر براک أوباما نے کہا ہے کہ وہ ویڈیو جس میں چار سیاہ فام مشتبہ افراد کو شکاگو میں ذہنی طور پر معذور ایک نوعمر سفید فام پر تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ نسل پرستی، تفریق اور نفرت، ہمارے خاندانوں اور معاشروں سے کتنا ہولناک اور بھیانک خراج وصول کررہی ہے۔

یہ ویڈیو فیس بک پر براہ رأست آدھے گھنٹے تک دکھائی جاتی رہی جس دوران سیاہ فام افراد معذور نوجوان پر مسلسل تشدد کرتے رہے۔ بعد أزاں پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کی دفعات عائد کیں۔

صدر أوباما نے کہا ہے کہ ہمیں اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اگر ہم یہ ظاہر کریں کہ یہاں نسل پرستی موجود نہیں ہے اور نفرت پر مبنی واقعات نہیں ہوتے۔ اگر ہم اس موضوع پر بات نہیں کرتے تو ہمیں اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چیزوں کے منظر عام پر آنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم انہیں حل کرسکتے ہیں۔

ریاست الی نوائے کی کک کاؤنٹی کے پراسیکیوٹرز نے جمعرات کی شام چاروں مشتبہ افراد کے خلاف نفرت اور اغوا کرنے کے الزامات عائد کرنے کا اعلان کیا، جن کے نام جورڈن ہل عمر 24 سال، برٹنی کوونگٹن عمر 18 سال، ٹسفے کوپر عمر 18 سال اور تانیشا کوونگٹن عمر 24 سال بتائے گئے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چار سیاہ فام افراد ایک سفید فام شخص پر کئی بار مکوں سے حملے کرتے ہیں ۔ سفیدفام شخص بندھا ہوا ہے اور اس کے منہ پر ٹیپ لگی ہوئی ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ذہنی ٕمعذور شخص کو ٹائلٹ میں سے پانی پینے پر مجبور کیا جاتا ہے، اس کے رستے زخموں پر سگار کی راکھ چھڑکنے سے پہلے اس کے سر کے کچھ بال درشتگی سے کاٹے جاتے ہیں ۔

پوری ویڈیو کے دوران حملہ آوروں کو سفید فام لوگوں اور منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف غیر مہذب جملے ادا کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ایک موقع پر حملہ آور ذہنی معذور شخص کو ٹرمپ کے خلاف غیر مہذب جملے ادا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے معذور شخص کو ایک گلی میں پھینکے سے پہلے 24 سے 48 گھنٹوں تک محبوس رکھا تھا۔

پولیس نے اسے اسپتال پہنچایا اور اس کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ایک قریبی آبادی کا رہنے والا ہے اور اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ سفید فام نوجوان، ایک حملہ آور کا ہم جماعت ہے اور بظاہر اپنی رضا سے وہ ان کے ساتھ گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG