رسائی کے لنکس

شکاگو: رنگا رنگ پاکستان ڈے پریڈ میں پاکستانیوں کے علاوہ دیگر کمیونٹی کے افراد کی بھی شرکت۔


فائل

فائل

رنگا رنگ پریڈ میں 25 سے زائد طویل فلوٹ شامل تھے، جن پر پاکستانی اور بھارتی کمپنیوں کی مصنوعات کی تشہیر کرتی ہوئی خواتین اور بچوں نے پاکستانی لباس پہنے اور قومی پرچم لہراتے اسٹیج پر موجود قائدین کو سلامی دی

پاکستان کے 69ویں یوم آزادی کے موقع پر شکاگو میں عظیم الشان پاکستان ڈے پریڈ میں بھارتی کمپنیوں نے بھی بھرپور شرکت کی، اور مشہور دیوان اسٹریٹ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں سے گونجھ اٹھا۔

پاکستان ڈے پریڈ میں کمیونٹی کے تمام طبقوں نے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متحدہ جدوجہد کا پیغام دیا۔

پریڈ کمیٹی کے چیئرمین جمیل خان کی قیادت میں ہونے والی یہ پریڈ دوپہر 12 بجے دیوان اسٹریٹ پر شروع ہوئی جس کی قیادت شکاگو پولیس کا بینڈ کر رہا تھا؛ جبکہ معروف پاکستانی شخصیات چوہدری رشید کے علاوہ کوک کاؤنٹی کے صدر، گورنر، اسٹیٹ سینٹرز اور ججز بھی پریڈ کے قائدین میں شامل تھے۔

پریڈ کے دونوں اطراف کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا۔ تاہم، ’بیریئر‘ کے اس پار ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی خواتین و حضرات اور بچے پریڈ کا منظر دیکھنے کے لیے بیتاب نظر آئے۔ اس موقع پر ٹریفک کے لیے دیوان اسٹریٹ کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

دو میل کا فاصلہ طے کرکے جب پریڈ کے شرکا اور فلوٹ اسٹیج کے سامنے سے سلامی دیتے ہوئے گزرے، تو فضا ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں سے گونجھ اٹھی۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور اس کے انگریزی ترجمے سے ہوا جس کے بعد پاکستان اور امریکہ کا قومی ترانہ پڑھا گیا جس پر حاضرین نے احترام قومی نغموں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

منتظمین کے مطابق رنگا رنگ پریڈ میں 25 سے زائد طویل فلوٹ تھے جن پر پاکستانی اور بھارتی کمپنیوں کی مصنوعات کی تشہیر کرتی ہوئی خواتین اور بچوں نے پاکستانی لباس پہنے اور قومی پرچم لہراتے ہوئے اسٹیج پر موجود قائدین کو سلامی دی۔ 25 میں سے 7 بڑے فلوٹ انڈین کمپنیوں کے تھے جنھوں نے پاکستانیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

پریڈ کے اختتام پر دیوان اسٹریٹ کے قریب پارک میں رنگارنگ ثقافتی میوزک شو منعقد ہوا جس میں قومی نغموں کی دھن پر حاضرین جھوم اٹھے۔

یہ میوزک شو رات گئے تک جاری رہا جبکہ اس موقع پر خطاب میں مقامی رہنماؤں جمیل احمد خان، فیصل نیاز ترمذی اور دیگر نے کمیونٹی کو متحد ہو کر مقامی سیاسی عمل میں شرکت کی اپیل کی۔

تفصیل کے لیے، درج ذیل رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG