رسائی کے لنکس

پاکستان میں کم عمری کی شادی


یونیسف کے 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ہونے والی 21٪ شادیوں میں دولہا یا دولہن کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے۔ مگر پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیموں کا اصرار ہے کہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 60٪ سے 70٪ کے درمیان ہے۔

پاکستان میں ہر برس ہزاروں لڑکیاں جسمانی اور نفسیاتی اعتبار سے شادی کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔ پاکستان میں کم عمری کی شادی کو روایات اور ثقافت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ بعض اوقات کم عمری کی شادی کا تعلق قرض کی وصولی، پیسے کے لین دین یا پھر پنچائیت کے فیصلوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔

پاکستان میں بچپن میں کی گئی شادی سے متعلق حتمی اعداد و شمار اکٹھا کرنا مشکل ہے، کیونکہ پاکستان میں اکثر پیدائش کے ریکارڈ میں تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ یوں یہ جاننا مشکل ہے کہ شادی کے وقت دولہا یا دولہن کی اصل عمر کیا ہے۔ یونیسف کے 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہونے والی 21٪ شادیوں میں دولہا یا دولہن کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے۔ مگر پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیموں کا اصرار ہے کہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 60٪ سے 70٪ کے درمیان ہے۔

بچپن کی شادی پاکستانی معاشرے میں لڑکے اور لڑکیوں دونوں کا ہی مسئلہ ہے مگر بچوں کے حقوق سے متعلق ایک تنظیم Plan International کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں لڑکیوں کی شادیاں لڑکوں کی نسبت زیادہ چھوٹی عمر میں کی جاتی ہیں۔

بچوں کی شادی کی ممانعت سے متعلق 1929ء (برٹس انڈیا اسمبلی) کے ایک قانون کے مطابق پاکستان میں لڑکوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال جبکہ لڑکیوں کی 16 سال ہے۔ اس قانون پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں جرمانہ یا ایک ماہ قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اپریل 2014ء میں سندھ اسمبلی نے اس قانون کو اختیار کرتے ہوئے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی ہی شادی کی عمر 18 سال قرار دینے کی منظوری دی تھی۔

کم عمری کی شادی کے سلسلے میں سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے آگہی کی کیمپینز مددگار ثابت ہوئی ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مزید آگہی اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں کم عمری کی شادیوں کے رواج کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG