رسائی کے لنکس

عالمی ادارے یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 3 فی صد لڑکیاں 15 سال سے کم عمر میں اور 21 فی صد18 کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔

گل رخ

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کا خطہ دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں لڑکیوں کو کم عمری میں ہی بیاہ دیا جاتا ہے۔ 2016 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے 45 فی صدلڑکیوں کی شادیاں 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی کر دی جاتی ہیں۔ گویا ہر دوسری لڑکی پر ایک ایسی عمر میں گھر داری کی ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں جواس کی جسمانی نشوونما اور پڑھنے لکھنے کی عمر ہوتی ہے۔

اگرچہ دوسرے کئی ایشائی ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کو سطح کم ہے اور وہ ہمسایہ ملک بھارت کے 47 فی صد کے مقابلے 21 فی صد ہے ، لیکن یہ شرح ملک کو درپیش دوسرے سماجی مسائل کی طرح ایک اہم مسئلہ ہے۔ کم عمری کی شادیاں شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں زیادہ ہوتی ہیں۔کیونکہ وہاں تعلیم کی کمی کے ساتھ ساتھ رسم و رواج کا دباؤ ہوتا ہے۔اگر ہم پرانے زمانے کی بات کریں تو والدین اپنے ثقافت اور رسم ورواج کے پیش نظر اپنی بیٹیوں کی شادیاں چھوٹی عمر میں کر دیتے تھے۔

پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں کم عمر ماؤں کو زچگی کے دوران کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قائد اعظم اسپتال اسلام اباد سے وابستہ ڈاکٹر سلمیيٰ کفیل قریشی نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کم عمری میں لڑکی کی شادیاں کر دی جاتی ہے اور پھر جب وہ حاملہ ہوجاتی ہے تو اس دوران وہ بہت سے مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔کیونکہ اس عمر میں وہ جسمانی طور پر بچہ پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔اس کی اپنے جسم کی نشونما جاری ہوتی ہے ۔اور ساتھ ساتھ وہ بچے کی غذائی ضروریات بھی پوری کرتی ہے ، جس سے اس کے اندرکیلشیم ، وٹامن بی، ڈی اورائرن کی کمی بھی ہو سکتی ہے ،جسکی وجہ سے ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں، وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوسکتی ہے ۔۔اور خون کی کمی کا شکار ہو سکتی ہے۔اور جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ بھی صحت مند نہیں ہوتا ۔

کم عمری کی شادیوں کے حوالے سے پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے لئے اواز بلند کرنے والی حدیقہ بشیرکا، جنہوں نے گزشتہ سال محمد علی ہیومینٹیرین ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا، کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کم عمری کی شادیاں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔اس کی بڑی وجہ تعلیم اور شعور کی کمی اور غربت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چائلڈمیرج بل میں لڑکی کی عمر 16 سال جبکہ لڑکے کی عمر 18 سال ہے۔ ہم چاہتے ہیں اس بل میں تبدیلی کرکے لڑکی کی عمر 18 سال کردی جائے اور اس کے ساتھ ہر ضلع میں کم عمری میں شادی سے تحفظ سے متعلق ایک دفتر ہونا چاہیے تاکہ ایسے واقعات کے خلاف بروقت کاروائی ہوسکے۔

پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام پر سندھ اور پنجاب اسمبلی نے بل منظور کیا تھا ۔لیکن سپریم کورٹ میں اس حوالے سےدرخواست پیش ہوئی تھی۔سپریم کورٹ کے وکیل محمود اشرف نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہو ئے کہا کہ چائلڈمیرج بل کے حوالے سے قوانین بنا دیئے گیے ہیں جس میں لڑکی کی عمر 18سال کردی گئی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG