رسائی کے لنکس

بچوں کے حقوق کا تحفظ: پاکستان کی بہت سی نجی تنظیمیں سرگرمِ عمل

  • بہجت گیلانی

بچوں کے حقوق کا تحفظ: پاکستان کی بہت سی نجی تنظیمیں سرگرمِ عمل

بچوں کے حقوق کا تحفظ: پاکستان کی بہت سی نجی تنظیمیں سرگرمِ عمل

بچوں کی بہتری کے لیے پیش کی جانے والی سفارشات پر حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں کوئی حوصلہ افزا اقدام نہیں کر رہی ہیں: تجزیہ کار

بچوں کےحقوق اور تحفظ کےلیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیرپرسن زہریٰ یوسف نے بتایا ہے کہ تنظیم کا زیادہ ترکام مونیٹرنگ اور رپورٹنگ کرنا ہے۔

اتوار کو ’وائس آف امریکہ‘ کے حالات حاضرہ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے بارے میں ہیومن رائٹس کمیشن اپنی سالانہ رپورٹ میں ایک مکمل باب مخصوص کرتا ہے، جب کہ اِس ضمن میں تنظیم کی طرف سے خصوصی رپورٹیں بھی شائع ہوتی ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے لیے کمیشن نہ صرف نجی اداروں بلکہ حکومت کو بھی سفارشات فراہم کرتا ہے۔

کمیشن کی چیرپرسن زہریٰ یوسف کا خیال ہے کہ سرکاری سطح پر کچھ عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ اُن کے الفاظ میں ’اگر بچوں کے حقوق کے قانون کو صحیح طریقے سے فریم کریں اور بتایا جائے کہ قوانین پر عمل درآمد ہو رہا ہے تو یہ ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔‘

پاکستان میں بہت سی نجی تنظیمیں بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

’ چائلڈ رائٹس لیگل سینٹر‘ کے اگزیکٹر ڈائریکٹر قندیل شجاعت اپنی تنظیم کی سرگرمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ پاکستان نے جن بین الاقوامی قوانین پر دستخط کیے ہیں اُن پر عمل درآمد کے حوالے سے کام کیا جائے، اور اِس سلسلے میں، حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مدد فراہم کی جائے۔

قندیل شجاعت یہ نہیں سمجھتے کہ بچوں کی بہتری کے لیے پیش کی جانے والی سفارشات پر غیر سرکاری تنظیمیں اور حکومت کوئی حوصلہ افزا اقدام کر رہی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اِس وقت صورتِ حال گھمبیر ہے اور جو کارکردگی سامنے آرہی ہے وہ پریشان کُن ہے۔اُن کے بقول، پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں پر بچوں کی ایک وسیع تعداد اسکول نہیں جاتی یا اسکول کے دوران پڑھائی چھوڑ دیتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ اِس ضمن میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

قندیل شجاعت نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کی منظوری خوش آئند تھی کہ اُس میں کہا گیا تھا کہ پانچ سے سولہ برس کی عمر کے تمام بچوں کو حکومت لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔ لیکن، اُن کے بقول، تاحال ہوا کچھ بھی نہیں۔

بچوں کے حقوق کے تحفظ کی تنظیموں کا خیال ہے کہ چائلڈ لیبر پر قابو پانے کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ سوسائٹی میں لوگوں کے اندازِ فکر میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

سوسائٹی فور پراٹیکشن آف دِی رائٹس آف چلڈرین (اسپارک) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ارشد محمود کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے چائلڈ لیبر کو ختم کرنا ہے اور بچوں کو تحفظ دینا ہے توہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی قومی سوچ میں تبدیلی لائیں، گھروں میں کام کرنے والے بچوں کی حالت پر غور کریں ، اور کم از کم تنخواہ کے معاملے پر سنجیدگی سے سوچیں۔

’سیو دِی چلڈرین‘ نامی تنظیم کے سینئررپورٹنگ کوآرڈینیٹر، فارس کاظم کے مطابق اُن کی تنظیم کا فوکس بچوں کے بنیادی حقوق کے قوانین کا تحفظ کرنا ہے۔ اُن کے بقول، ہم الگ تھلگ رہ کر کام نہیں کرتے بلکہ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ بچوں کی بہبود کے مراکز بنائے جائیں۔اُنھوں نے کہا کہ اُن کی تنظیم نے آج سے ’چائلڈ پراٹیکشن‘ کی مہم کا آغاز کیا ہے۔

دریں اثنا، حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے مسائل کے بارے میں حساس ہے اور اُنھیں حل کرنے کے لیے بھرپور کوششوں کا عزم رکھتی ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG