رسائی کے لنکس

مہاجر بچوں کو یورپی یونین اور ایران میں مشکلات کا سامنا: رپورٹ


ریڈ کراس کا ایک رضاکار ایک بوسیدہ کشتی میں سینکڑوں مہاجرین کے ساتھ میں یونان کی ایک بندرگاہ پر پہنچنے والے بچے کو لے کر جا رہا۔

ریڈ کراس کا ایک رضاکار ایک بوسیدہ کشتی میں سینکڑوں مہاجرین کے ساتھ میں یونان کی ایک بندرگاہ پر پہنچنے والے بچے کو لے کر جا رہا۔

شام اور افغانستان سے نقل مکانی پر مجبور ہونے والے کئی بچے مہاجروں کے مراکز تک پہنچنے کے لیے اکیلے سفر کر رہے ہیں، جہاں انہیں بچوں کی پناہ گاہوں میں جگہ ملنے تک کئی ہفتے انتظار کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے یورپی اقوام کو افغانستان، شام اور دوسرے ملکوں سے یورپ میں پناہ لینے والے بچوں کی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی صفوں میں شمولیت یا شامی فوجی میں بھرتی سے بچنے کے لیے شام اور افغانستان سے نقل مکانی پر مجبور کئی بچے مہاجروں کے مراکز تک پہنچنے کے لیے اکیلے سفر کر رہے ہیں، جہاں انہیں بچوں کی پناہ گاہوں میں جگہ ملنے تک کئی ہفتے انتظار کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ کے لیے مئی 2015 میں یونان کے سیاسی پناہ کے مراکز میں 41 بچوں کے انٹرویوز کیے، جن میں سے نصف سے زائد تنہا سفر کر رہے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچے اپنے آبائی ممالک میں تشدد سے بچنے، تعلیم حاصل کرنے، یا استحصال مثلاً مسلح گوہوں میں زبردستی شمولیت یا بچپن میں شادی سے بچنے کے لیے سفر کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ مہاجر بچوں نے ایران اور ترکی ایسے غیر یورپی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں دستاویزات، تعلیم یا گزارے کے لئے مناسب تنخواہ کے ساتھ کام حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں غیر ایرانی بچوں کو سکول میں جانے کے لیے فیس ادا کرنا پڑتی ہے، جس سے ان مہاجر بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو گیا۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بالغوں کے برعکس سیاسی پناہ حاصل کرنے والے بچوں کو پناہ گاہوں میں جگہ تلاش کرنے کے دوران کئی ہفتوں تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی بچے حراست سے بچنے کے لیے اپنی عمریں غلط بتاتے ہیں۔

یورپی یونین میں اس سال پناہ کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ پناہ مانگنے والوں میں سے کئی وہ ہیں جو شام اور افغانستان میں تشدد سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ 42,160 مہاجرین 2015 میں سمندری راستوں سے یونان میں داخل ہوئے، جو پورے 2014 میں مہاجرین کی تعداد کے برابر ہے۔

یونان کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد شام سے جبکہ دوسری بڑی تعداد افغانستان سے آنے والوں کی ہے۔

رپورٹ میں یونان سے کہا گیا ہے کہ وہ مہاجرین کی طرف سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے جزائر پر ’’آنے والوں کی آمد کے لیے مناسب انتظامات کرے‘‘ اور بچوں کی ضروریات اور ان کے بہترین مفادات کی طرف خاص توجہ دے، بشمول ان کے جو تنہا سفر کر رہے ہوں۔‘‘ اس میں یونانی حکام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجائے انہیں ہفتوں تک حراست میں رکھنے کے بچوں کی درخواستوں کو جلد نمٹایا جانا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG