رسائی کے لنکس

امریکہ کے شہر نیویارک میں جمعہ کو منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں دنیا کے 25 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 32 بچوں کو امریکی شہریت دی گئی۔

اس تقریب میں امریکہ کے ایوان نمائندگان کے رکن جوز سیرانو بھی موجود تھے انہوں نے چھوٹے چھوٹے امریکی پرچم تھامے بچوں سے کہا کہ " اس پر چم کو دیکھیں؟"

"کسی کو بھی آپ یہ کہنے کی اجازت نہ دیں کہ آپ یہاں پیدا نہیں ہوئے تھے، یہ پرچم آپ کا نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "نہیں ، یہ پرچم آپ کا اور میرا ہے۔ یہ ہمارا پرچم ہے۔"

ان بچوں کی عمریں 5 اور 13 سال کے درمیان تھیں اور ان میں زیادہ تر پرجوش تھے لیکن کبھی کبھی نروس بھی دکھائی دیتے تھے۔ تاہم حلف برداری کے تقریب کے بعد یہ تمام امریکی شہری بن گئے۔

مراکش سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ سارہ نے کہا کہ "یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں امریکہ کا حصہ بن گئی ہوں۔" آٹھ سالہ لوئیس ایسٹریلا جو ڈومینیکن نژاد امریکی شہری ہیں نے کہا کہ "میں بہت پرجوش ہیں اور اچھا محسوس ہوا کیونکہ میں نے یہ بھی کبھی نہیں دیکھا کہ یہاں بہت سی چیزیں ہیں جو ہم کر سکتا ہے۔ "

لوئیس کے والد جو خود بھی چھ سال قبل امریکہ کے شہری بنے تھے، نے کہا کہ اپنی بیٹی کی تقریب کو دیکھنا بہت اچھا لگا اس کے ساتھ ساتھ ہر وہ کامیابی جو اس نے اس ملک میں رہتے ہوئے حاصل کی۔

اگرچہ بچوں کو امریکہ کی شہریت دینے کی یہ ایک معمول کی علامتی تقریب تھی لیکن یہ اکثر ان کے والدین کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

امریکہ کی شہریت اور امیگریشن سروسز کے پبلک افیئرز کی افسر کیٹی ٹچاسیک نے کہا کہ " (ان بچوں کے) والدین پہلے ہی امریکہ کے شہری بن چکے ہیں اور بچوں کو شہریت ملنا ان کے لیے یہ ایک آخری مرحلہ تھا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ ان کے لیے اب یہ مرحلہ ختم ہو گیا ہے اور ایک نئی امریکی خاندان کے طور پر وہ اپنی زندگی بسر کرنے کا تجربہ کریں گے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG