رسائی کے لنکس

تنازعات کے شکار ممالک میں بچوں کا مستقبل خطرے میں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت ’یونیسکو‘ کا کہنا ہے کہ تنازع کے شکار علاقوں میں تعلیم کے لیے دو ارب تیس کروڑ ڈالر کا اضافی تعاون درکار ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسف‘ کا کہنا ہے کہ دنیا میں تنازعات کے شکار خطوں میں ہر چار میں سے ایک بچہ اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پا رہا۔

منگل کو ادارے نے بتایا کہ تنازعات کے شکار 22 ممالک میں ایک اندازے کے مطابق اسکول جانے کی عمر کے تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ بچے متاثر ہو رہے ہیں۔

ان ملکوں میں جنوبی سوڈان، نائیجر، سوڈان اور افغانستان بھی شامل ہیں جب کہ افغانستان کا تذکرہ کرتے ہوئے تحقیق میں بتایا گیا کہ یہاں ایسے بچوں کی شرح چالیس فیصد ہے۔

یونیسف کے تعلیم سے متعلق شعبے کی سربراہ جو بورن کہتی ہیں کہ "جب بچے اسکول نہیں جاتے تو ان کے استحصال اور مسلح گروپوں میں شمولیت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ اسکول بچوں کو علم اور صلاحیتوں سے آراستہ کرتے ہیں جو کہ تنازع ختم ہونے کے بعد سماج کی تعمیر نو کے لیے بہت ضروری ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ جب بچے تعلیم کے بغیر پرورش پاتے ہیں تو ان کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے۔

"بنیادی پڑھائی لکھائی کی صلاحیت حاصل کیے بغیر یہ بچے اپنا مستقل کھونے اور اپنے معاشروں کی اقتصادی سرگرمیوں میں مواقع حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔"

یونیسکو کا کہنا ہے کہ تنازع کے شکار علاقوں میں تعلیم کے لیے دو ارب تیس کروڑ ڈالر کا اضافی تعاون درکار ہے۔

XS
SM
MD
LG