رسائی کے لنکس

لندن کے کنگز کالج سے منسلک ماہر ِنفسیات نے اس تحقیق کی غرض سے 15 ہزار سے زائد ننھے بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا اور اس کا جائزہ لیا

ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں کی ذہانت کا اندازہ ان کے بچپن میں ہی لگانا ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق، ننھے منے بچے جب کاغذ پر رنگ بکھیرتے ہیں اور آڑھی ترچھی خط کھینچتے ہیں یا پھر مختلف چیزوں کی ڈرائنگ بناتے ہیں تو ان ڈرائنگز کے تجزئیے سے بہت حد تک بچوں کی ذہانت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

لندن کے کنگز کالج سے منسلک ماہر ِنفسیات نے اس تحقیق کی غرض سے 15 ہزار سے زائد ننھے بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا اور اس کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق میں ایسے جڑواں بچوں کو شامل کیا گیا جِن کی شکلیں بالکل ایک جیسی تھیں اور ان جڑواں بچوں کو بھی جن کی شکلیں آپس میں زیادہ نہیں ملتی تھیں۔

ننھے بچوں سے کہا گیا کہ وہ ایک بچے کی تصویر بنائیں۔ اس کے بعد بچوں کے آرٹ ورکس کو ایک جگہ جمع کیا گیا اور ماہرین نے بچوں کی ان تصویروں کو 12 مارکس میں سے نمبر دئیے۔ بچوں کی ڈرائنگز کے نمونوں کو نمبر دیتے ہوئے چند عوامل کو مد ِنظر رکھا گیا جیسا کہ یہ ڈرائنگز کس حد تک درست بنائی گئی تھیں، بچوں نے سر، بال، آنکھیں، ناک، ٹانگیں اور چہرے کے مختلف زاویوں کا کتنا خیال رکھا تھا اور کتنی باریکی سے ڈرائنگ بنائی تھی۔

بچوں کو ان ڈرائنگز کے بعد ذہانت کے مختلف امتحان بھی دئیے گئے۔

انہی بچوں کی ذہانت کا دوبارہ امتحان اس وقت لیا گیا جب وہ 14 برس کے ہو گئے۔

جب بچوں کی تصویریں بچپن میں سب سے اچھی قرار دی گئی تھیں، ان کا ’آئی کیو‘ یا ان کی ذہانت کا درجہ دوسرے بچوں کی نسبت کہیں زیادہ تھا۔

تحقیق دانوں نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ بہت سے بچوں کو ذہانت ورثے میں اپنے والدین سے ملے ہوئے ’جینز‘ کی وجہ سے ملی۔

ماہرین نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ ایسے جڑواں بچے جن کی شکلیں آپس میں بہت ملتی ہیں، ان کی ڈرائنگز میں بھی مماثلت پائی گئی۔ مگر ایسے جڑواں بچے جن کی شکلیں آپس میں نہیں ملتی تھیں، ان کی ڈرائنگز ایک دوسرے سے خاصی مختلف تھیں اور ان بچوں کی ذہانت کی سطح بھی ایک دوسرے سے مختلف تھی۔

اس تحقیق کے نتائج ’سائیکولوجیکل سائنس‘ میں شائع کیے گئے۔

XS
SM
MD
LG