رسائی کے لنکس

چلے: زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 10 ہزار فوجی تعینات


چلے کی صدر مشل باچلیت

چلے کی صدر مشل باچلیت

چلے کی صدر مشل باچلیت کا کہنا ہے کہ آٹھ اعشاریہ آٹھ کی شدت کے زلزلے نے، جس میں ملک کا مرکزی حصہ تباہ اور لگ بھگ 20 لاکھ افراد کو بے گھر چکے ہیں، ایک ایسی ہنگامی صورت حال سے دوچار کردیا ہے جو چلی کی تاریخ میں کبھی پیش نہیں آئی ۔

صدر بیاچلیت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کے متعدد حصوں میں امن عامہ بحال کرنے اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کی کوششوں میں مدد کے لیے 10 ہزار فوجی تعینات کررہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مفت خوراک کی تقسیم کے لیےمتعدد سپر مارکیٹوں سے ایک معاہدہ طے پاچکا ہے۔

اتوار کے روز کون سیپسی اون شہر میں لٹیروں نے سٹور وں میں خوراک اور برقی آلات کی لوٹ مار کی۔ پولیس نے ایک سپر مارکیٹ میں لٹیروں کے ایک ہجوم کو منتشر کرنے کےلیے آنسوگیس اورپانی کے سپرے کا استعمال کیا۔

عہدےد اروں نے کون سیپسی اون وغیرہ علاقوں میں لاقانونیت کو کچلنے کے لیے کرفیو نافذ کردیا۔

زلزلے کے بعد ابتدا میں صدر نے بین الاقوامی امداد کی درخواست کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لیاتھا ، لیکن اب جب ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات سو سے بڑھ چکی ہے، انہوں نے مدد کی اپیل کی ہے۔ خدشہ ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوگا ۔

امدادی کارکن ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر کون سیپسی اون میں ایک منہدم رہائشی اپارٹمنٹ بلڈنگ میں پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ امدادی کارکنوں کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ اس عمارت میں لگ بھگ 50 لوگ زندہ پھنسے ہوئے ہوں۔

XS
SM
MD
LG