رسائی کے لنکس

سنکیانگ میں گزشتہ 18 ماہ سے جاری ایسی ہی بدامنی کی وجہ سے اب تک کم ازکم 300 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ شورش زدہ خطے سنکیانگ میں حالیہ بدامنی کی وجہ سے 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ اتوار کو اُرمچی کے شمال مغربی علاقے لونتائی میں ہونے والے پرتشدد واقعے میں صرف دو لوگ مارے گئے تھے۔

جمعہ کو تائنشان نیوز پورٹل کی طرف سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا کہ دو پولیس تھانوں اور دو دکانوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں چار پولیس افسر اور چھ شہری ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے بظاہر "بلوہ" کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے دوران فائرنگ کر دی جس سے کم از کم 40 افراد ہلاک اور 54 زخمی ہو گئے۔

اس بدامنی کو حکام ایک دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہیں جس کی منصوبہ بندی مامات تورسن نے کی تھی اور وہ بھی اس دوران گولی لگنے سے مارا گیا۔ پولیس کے بقول یہ شخص 2003ء سے ایک انتہا پسند کے طور پر کارروائیاں کرتا آ رہا تھا۔

سنکیانگ میں گزشتہ 18 ماہ سے جاری ایسی ہی بدامنی کی وجہ سے اب تک کم از کم 300 لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس خطے میں ایغور نسل کی مسلم آبادی اور ہان نسل کے لوگوں کے درمیان کشیدگی چلی آرہی ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ وہ بیرونی ممالک کے حمایت یافتہ ان جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہا ہے جو سنکیانگ میں ایک علیحدہ ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ایغور کی اکثریت مسلمان ہے اور ان کا الزام ہے کہ ان کے ساتھ یہاں حکومت امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔

رواں ہفتے ہی چین نے ایک معروف ایغور دانشور الہام توہتی کو یہ کہہ کر عمر قید کی سزا سنائی کہ وہ تشدد کی حوصلہ افزائی اور سنکیانگ کی علیحدگی کی کوششوں میں ملوث ہیں۔

بیجنگ یونیورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر توہتی خود پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ صرف ایغور نسل کے لوگوں سے چین حکومت کے روا رکھے جانے برے سلوک کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG