رسائی کے لنکس

چین کی افغانستان میں قیام امن کے منصوبے کی حمایت

  • ب

چین کاکہنا ہے کہ وہ پڑوسی ملک افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کے لیے اس منصوبے کی حمایت کرے گا جو خود افغان حکومت کا تیار کردہ ہو اور اسے عوام میں پذیرائی حاصل ہو۔

چین کاکہنا ہے کہ وہ پڑوسی ملک افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کے لیے اس منصوبے کی حمایت کرے گا جو خود افغان حکومت کا تیار کردہ ہو اور اسے عوام میں پذیرائی حاصل ہو۔

اسلام آباد میں ایک غیر سرکاری تنظیم پاک۔چین انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چین کے نائب سفیر Yao Jingنے کہا کہ ان کا ملک پاکستان اور افغانستان سمیت اپنے پڑوسی ملکوں میں امن واستحکام کے لیے نہ صرف اپنا کردار ادار کرنا چاہتا ہے بلکہ اپنی بے مثال اقتصادی ترقی کے ثمرات کو بھی ان کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ ”چین خطے میں استحکام اور امن وسکون کو یقینی بنا کر ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے“۔ مسٹر Jingنے پاکستان اور بھارت کے درمیان امن بات چیت کی بحالی کے امکانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اسلام آباد کی اقتصادی ترقی کی خواہش اور عزم رکھتاہے۔

انھوں نے بتایا کہ چین نے حالیہ سالوں کے دوران پاکستان میں چار ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے اور اس وقت60کمپنیاں ملک میں مختلف شعبوں میں کام کررہی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت تقریباً 11ہزار چینی انجینئر اور ورکرز پاکستان کے مختلف علاقوں میں کام کررہے ہیں جن میں جنگ سے متاثرہ جنوبی وزیرستان اور سوات کے علاقے بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ چین کی معیشت نے گذشتہ دہائیوں کے دوران شاندار اقتصادی ترقی ہے ۔اس وقت دنیا کی مجموعی ملکی پیداوار یعنی World GDPمیں اس کا حصہ 13فیصد ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے کے بعد چین آئندہ سالوں کے دوران امریکہ کا بڑا حریف بن کر ابھر سکتا ہے اور ان کے مطابق یک بڑی عالمی قوت بننے کے بعد جنوبی ایشیا میں چین کا کردار بہت اہم بننے والا ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں سابق سیکریٹری خارجہ اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر ریاض کھوکھر نے کہاکہ اب جب امریکہ 2011ء کے وسط تک افغانستان سے واپسی اختیار کرنے کی بات کررہا ہے تو آئندہ سالوں کے دوران افغانستان کی صورتحال بہتر بنانے اور خطے میں امن و استحکام اور ترقی میں چین کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کرجائے گا۔

مسئلہ کشمیر کے حل میں چین کے ممکنہ کردار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ یہ پاکستان اور بھارت کا ایک دو طرفہ تنازعہ ہے تو ممکن ہے کہ چین اپنی روایتی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں براہ راست مداخلت سے گریز کرے لیکن ان کے مطابق ”ہمیں اپنے دوست پر اس ضمن میں کوئی دباؤ بھی نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ یہ اعتماد رکھنا چاہیے کہ چین اپنے تاریخی دوست پاکستان کو سفارتی حمایت کے حوالے سے کبھی مایوس نہیں کرگا“۔

XS
SM
MD
LG