رسائی کے لنکس

چین کی بحریہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہاہے کہ ملک کا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز اس سال کے آخر میں باضابطہ طورپر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے گا۔

روزنامہ چائنا ڈیلی نے اپنی منگل کی اشاعت میں ڈپٹی کمانڈر شو ہونگ منگ کے حوالے سے کہاہے کہ بحریہ روس کے تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کو فعال کردار سونپے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ لیکن انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

چین نے یہ بحری جہاز 1998ء میں یوکرین سے خریدا تھا اوراس کی تزئین او آرائش کے بعد گذشتہ سال کے پہلے بحری سفر سے قبل سمندر میں چار بار اس کی آزمائش کی تھی۔

اخبار نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے لکھاہے کہ اس وقت بحری جنگی جہاز پر طیاروں کے حقیقی سائز کے ماڈل موجود ہیں۔

ڈیلی چائنا کی خبر میں کہا گیا ہے کہ پیر کے روز ریئر ایڈمرل کاؤ دونگ شن نے کہاتھا کہ نئے طیارہ بردار بحری جہاز کو مستقلاً کسی ایک مقام پر تعینات نہیں کیا جائے بلکہ اسے متحرک رکھا جائے گا۔

ریئر ایڈمرل کا یہ بھی کہناتھا کہ بحری جہاز کو زیادہ تر مشقوں، تربیت اور سائنسی تحقیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG