رسائی کے لنکس

بدھ کو چین کی وزارتِ دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چینی فوج نے سائبر حملوں کی کبھی حمایت نہیں کی ہے۔

چین نے ایک امریکی ادارے کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے جس میں امریکہ میں ہونے والے ہیکنگ کے واقعات میں چینی فوج کو ملوث قرار دیا گیا تھا۔

بدھ کو چین کی وزارتِ دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چینی فوج نے سائبر حملوں کی کبھی حمایت نہیں کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'منڈینٹ' نامی کمپنی کی جانب سے منگل کو جاری کی جانے والی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں جب کہ اس میں الزامات کو ثابت کرنے کے لیے تیکنیکی شواہد بھی پیش نہیں کیے گئے۔

'منڈینٹ' نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ چین کی 'پیپلز لبریشن آرمی' کا '61398' نامی ایک خفیہ یونٹ ہیکرز کے اس گروپ کی پشت پناہی کر تا رہا ہے جو 2006ء سے اب تک امریکہ میں مختلف اہداف پر ہونے والے 150 سائبر حملوں میں ملوث ہے۔

چینی حکومت ماضی میں بھی 'ہیکنگ' میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔

منگل کو امریکی ادارے کی رپورٹ کے اجرا کے بعد اپنے ردِ عمل میں چین کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ان کا ملک ہیکنگ کا ذمہ دار نہیں بلکہ خود اس کا شکار ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپیوٹر ہیکنگ کا عمل چین میں قانوناً جرم ہے۔

بدھ کو چینی وزارتِ دفاع نے بھی اپنے بیان میں اسی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے دستیاب معلومات سے پتا چلتا ہے کہ چین پر ہونے والے ہیکنگ کے حملوں میں سے کئی امریکہ سے کیے گئے۔
XS
SM
MD
LG