رسائی کے لنکس

پولیس کی طرف سے پروفیسر کے خلاف الزامات سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ لیکن انھیں پہلے بھی متعدد بار اپنے تقیدی تبصروں کی وجہ سے تحویل میں رکھنے کے علاوہ حراساں کیا جاچکا ہے۔

چین کی پولیس نے یغور مسلمانوں سے متعلق بیجنگ کی کڑی پالیسی پر تنقید کرنے والے ایک یونیورسٹی پروفیسر کو تحویل میں لیا ہے۔

ایلہم تہتی نامی یہ پروفیسر بیجنگ کی مرکزی یورنیورسٹی برائے اقوام میں شعبہ اقتصادیات سے منسلک ہیں۔ انہیں بدھ کو ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا۔

تہتی کی اہلیہ نے اس واقعے کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ گھر پر چھاپے میں پولیس اہلکار فون اور کمپیوٹر بھی ساتھ لے گئے۔

پولیس کی طرف سے پروفیسر کے خلاف الزامات سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

تہتی اس سے پہلے بھی متعدد بار اپنے تقیدی تبصروں کی وجہ سے تحویل میں رہنے کے علاوہ حراساں کیے جا چکے ہیں۔

45 سالہ پروفیسر نے نومبر میں وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری اور ان کا فون بھی لے گئے۔ انہیں ذارئع ابلاغ پر تبصرے کرنے پر موت کی دھمکیاں بھی مل چکی ہیں۔

وہ مسلسل چین کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ بیجنگ نے مغربی شنکیانگ کے علاقے میں سخت گیر پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ وہاں پر بیرونی طاقتوں کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے جنگ کی جاری ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور جلاوطن یغور کہتے ہیں کہ چین ان کے علاقوں میں حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے تاکہ وہاں مسلمانوں کی مذہبی زندگی کے خلاف اپنے ظلم کے لیے جواز پیدا کیا جائے۔
XS
SM
MD
LG