رسائی کے لنکس

چین: بدعنوانی کے الزام میں سابق سکیورٹی چیف گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یانگ کانگ پر رشوت لینے، سرکاری فنڈ میں گھپلوں اور قومی راز افشا کرنے سمیت کئی الزامات ہیں جن کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

چین میں حکام نے حکمران جماعت 'کمیونسٹ پارٹی' کے سابق اعلیٰ عہدیدار اور سابق سکیورٹی چیف شو یانگ کانگ کو حراست میں لے لیا ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے 'ژنہوا' نے جمعہ کی شب 'کمیونسٹ پارٹی' کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے 'پولٹ بیورو' کا ایک مختصر بیان جاری کیا ہے جس میں یانگ کانگ کی حراست کا اعلان کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یانگ کانگ پر رشوت لینے، سرکاری فنڈ میں گھپلوں اور قومی راز افشا کرنے سمیت کئی الزامات ہیں جن کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

بیان کے مطابق یانگ کانگ کو 'کمیونسٹ پارٹی' سے نکال دیا گیا ہے اور ان کا کیس عدالتی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے خلاف قائم مقدمات کی سماعت جلد شروع ہوجائے گی۔

اکہتر سالہ شو یانگ کانگ چین کے صدر ژی جن پنگ کی حکومت کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف شروع کی جانے والی قومی مہم کے دوران نہ صرف اب تک گرفتار کی جانے والی سب سے بااثر شخصیت ہیں بلکہ وہ 1949ء میں کمیونسٹ پارٹی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے اب تک بدعنوانی کے الزام میں تحقیقات کا سامنا کرنے والے حکمران جماعت کے بھی اعلیٰ ترین رہنما ہیں۔

ژو 'کمیونسٹ پارٹی' کے سترہویں 'پولٹ بیورو' کے رکن رہے ہیں جس کا شمار چین کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز اداروں میں ہوتا ہے۔

اس ذمہ داری سے قبل وہ حکمران جماعت کے مختلف عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ دو بار قدرتی وسائل اور داخلی سکیورٹی کے مرکزی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG