رسائی کے لنکس

55 سالہ خاتون ڈاکٹر کو ’معطل شدہ سزائے موت‘ سنائی گئی جسے چین میں عمر قید تصور کیا جاتا ہے۔

چین کی ایک عدالت نے سات نومولود بچوں کو چوری کر کے انسانی اسمگلروں کے ہاتھ فروخت کرنے کے جرم میں ایک خاتون ڈاکٹر کو ’’معطل شدہ سزائے موت‘‘ سنائی ہے۔ چین میں یہ سزا عمر قید تصور کی جاتی ہے۔

منگل کو صوبہ شانزی کی ایک عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔

زانگ شوژیا فیوپنگ کاؤنٹی کے ایک اسپتال میں شعبہ زچگی سے وابستہ تھیں اور انھوں نے عدالت کے سامنے اقبال جرم بھی کیا تھا۔

55 سالہ ڈاکٹر پر یہ الزام تھا کہ وہ بچوں کی حالت تشویشناک اور موروثی بیماری میں مبتلا ہونے کی جھوٹی خبر دے کر والدین کو ان سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالتی تھیں۔

چوری کیے گئے بچوں میں سے چھ کو بازیاب کروا لیا گیا تھا لیکن 165 امریکی ڈالرز میں فروخت ہونے والا ایک بچہ غیر قانونی طور پر منتقل کرتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔

چین میں بچوں کی فروخت ایک بہت حساس معاملہ ہے اور ناقدین کے بقول یہ ’’ایک بچہ پالیسی‘‘ جیسے سخت حکومتی قانون کی وجہ سے انسانی اسمگلروں کے کاروبار میں وسعت کا ایک بڑا سبب ہے۔

حکومت نے اس معاملے سے نمٹنے کے لیے بعض اقدامات کیے ہیں جن میں بچوں کو گود لینے سے متعلق سخت قواعد و ضوابط اور بچوں کی فروخت کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔
XS
SM
MD
LG