رسائی کے لنکس

سنکیانگ: مسلمان نام رکھنے پر پابندی ’دانشمندانہ اقدام نہیں‘


فائل فوٹو

چین کے مغربی سرحدی علاقے سنکیانگ میں آباد مسلمان ایغور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والوں پر چین کی حکومت کی طرف سے ایک نئی پابندی کی گئی ہے، جس کے تحت اب ایغور مسلمان والدین اپنے بچوں کے ایسے نام نہیں رکھ سکیں گے جن کی بنیاد ’’انتہائی مذہبی‘‘ ہو۔

جن درجنوں ناموں کے رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اُن میں اسلام ، محمد ، صدام، مدینہ، مکہ جیسے نام شام ہیں۔

اس بارے میں پاکستانی حکومت کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور اس سے قبل بھی سنکیانگ میں ایغور برداری سے تعلق رکھنے والوں پر عائد کی جانے پابندیوں کے بارے میں اسلام آباد کی طرف سے کسی طرح کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔

تاہم اس بارے میں اسلام آباد میں عام لوگوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ چین کی طرف سے اس طرح کی پابندی دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔

سید فاخر الحسن شاہ، ایک دوا ساز کمپنی میں کام کرتے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت کو اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے۔

’’نام رکھنے سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا لیکن اگر مسلمان ہے اگر بچہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہے تو لازمی ہے نام تو اس کا مسلمانوں والا ہی ہو گا۔۔۔ چینی حکومت سے تو میں یہی کہوں گا کہ اس سوچ کو تبدیل کرنا چاہیئے ۔۔۔ آپ یہ اندازہ نا لگائیں کہ مثال کے طور پر کسی نے مسلمانوں والا نام رکھا دیا تو وہ دہشت گرد ہے۔‘‘

سید علی واسطی ایک مذہبی شخصیت ہیں جب کہ اس کے علاوہ وہ اسلام آباد انتظامیہ کے زیر اثر بننے والی امن کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

’’اس وقت چین ساری دنیا میں جا رہا ہے تو اس کو یہ سوچنا چاہیئے کہ کسی نام سے نفرت نا کریں، اس سے چین کے خلاف نفرت پھیلے گی دنیا میں مسلمان جو ہیں چین کو اچھی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں چین اپنا نقصان کرے گا، پابندی لگا کر کسی قسم کے نام سے کبھی اسلام نا رکا ہے اسلام کبھی نام سے نہیں رکا۔‘‘

سعدیہ کا تعلق پشاور سے ہے، اسلام آباد کے ایک مارکیٹ میں وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ بچوں کا نام کسی بھی خاندان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے اور اس پر پابندی کسی طور بھی درست نہیں۔

’’اب بچوں کے نام رکھنے پر بھی جو پابندی ہے، تو میرا خیال ہے کہ جو بنیادی انسانی حقوق ہیں اور ماں باپ کے جو حقوق ہیں اس کی خلاف ورزی ہے ۔۔۔ جب چین کی بات آتی ہے تو ہم پاک چین دوستی کی زیادہ بات کرتے ہیں اگر وہاں مسلمان کو روزے رکھنے سے روکا جاتا ہے یا اس کے بچوں کے ناموں کی بات آ رہی ہے تو میرا خیال میں پاکستان جیسا ملک اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ مسلمانوں کی بات کرے وہاں ہی جو علماء ہیں ان کو بات کرنی چاہیئے اپنے ملک سے، لیکن میرا خیال ہے کہ وہاں یہ باتیں نہیں سنی جاتیں۔‘‘

چین کی حکومت کا یہ موقف رہا کہ کہ سنکیانگ میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے وابستہ شدت پسند اس خطے میں بدامنی میں ملوث ہیں، تاہم مقامی ایغور برداری کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں بسنے والے پرامن لوگ ہیں، اُن کے بقول چینی حکومت کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیاں اُن کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG