رسائی کے لنکس

ایک بیان میں بی بی سی نے کہا ہے کہ چینی حکام سے احتجاج درج کرایا جا رہا ہے، جو، بقول اُن کے، اکثر غیر ملکی اداروں کی خبروں کی نشریات کو روکتے رہتے ہیں، جن میں ’وائس آف امریکہ‘ کی نشریات بھی شامل ہیں

برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) نے کہا ہے کہ چین میں ادارے کی انگریزی زبان کی ویب سائٹ کی رسائی بند کی گئی ہے، جس اقدام کی بی بی سی نے مذمت کرتے ہوئے اِسے ’دانستہ سنسرشپ‘ کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔


بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں، بی بی سی ورلڈ سروس کے ڈائریکٹر، پیٹر ہروکس نے اِس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اِسے خبروں اور اطلاعات کی آزادانہ دستیابی پر قدغن لگانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

ہروکس نے کہا ہے کہ بی بی سی چینی حکام سے احتجاج درج کرا رہا ہے، جو بقول اُن کے، اکثر غیر ملکی اداروں کی خبروں کی نشریات کو روکتے رہتے ہیں، جن میں ’وائس آف امریکہ‘ کی نشریات بھی شامل ہیں۔

ویب سائٹ پر لگائی گئی بندش کے بارے میں سوال پر، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان، ہونگ لوئی نے جمعرات کو بس اتنا کہا کہ، اِس معاملے کو چینی قانون کے مطابق طے کیا جا رہا ہے۔

بقول اُن کے، چینی شہریوں کو انٹرنیٹ کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ساتھ ہی، قانون کے مطابق، حکومت چین انٹرنیٹ کے معاملات کا انتظام چلاتی ہے۔

چین کی خودساختہ ’گریٹ فائروال‘ نے کئی برسوں تک چینی زبان کی ویب سائٹ کی برطانوی نشریات بند کیے رکھیں، تاہم بدھ کے روز تک انگریزی زبان کی ویب سائٹ کافی حد تک دستیاب تھی۔

بی بی سی نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتا کہ کسی مخصوص قسم کی رپورٹنگ کی بنا پر یہ بندش کا عمل لاگو کیا گیا ہے، حالانکہ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کہ ہانگ کانگ میں ہفتوں سے جمہوریت نواز احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

سرکاری کنٹرول میں کام کرنے والے چین کے ابلاغ عامہ کے ذرائع نے نیم خودمختار چینی علاقے میں جاری اِس احتجاج کو غیرقانونی اور عدم استحکام کا باعث بتایا ہے، اور یہ اقدام مظاہروں کو مرکزی سرزمین کی طرف رُخ کرنے سے روکنے کی کوشش خیال کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG