رسائی کے لنکس

چین نے سرگرم کارکن کو امریکہ جانے کی اجازت نہیں دی


نی یولان

نی یولان

کیری کا کہنا تھا کہ "نی یولان نے بیجنگ کے ان شہریوں کے حق ملکیت کا دفاع بھی جاری رکھا جن کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔"

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے دنیا بھر سے 14 خواتین کو انسانی حقوق، جمہوریت، صنفی مساوات اور خواتین کا بااختیار بنانے میں ان کے کردار پر "انٹرنیشنل ویمن آف کریج ایوارڈز" عطا کیا ہے۔

ان خواتین میں چین میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نی یولان بھی شامل ہیں جنہیں بیجنگ نے واشنگٹن کا سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ "اس سال ایسی خواتین کو پذیرائی کی گئی جنہیں نے تین اہم شعبوں میں عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا۔ وہ صنف کی بنیاد پر ہونے والے تشدد کی مخالفت اور اسے بے نقاب کر رہی ہیں، وہ بدعنوانی کے خلاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے لڑ رہی ہیں اور وہ سب کے لیے انصاف اور انسانی حقوق کو فروغ دے رہی ہیں۔"

ایوارڈ حاصل کرنے والی دیگر میں شام سے ایک یزیدی کارکن ہیں جو صنف کی بنیاد پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں، پسماندہ شہریوں کے لیے انسانی حقوق کی وکالت کرنے والی خواتین، انتہا پسندی اور خواجہ سراوں سے امتیازی سلوک کے خلاف کام کرنے والی مختلف غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ خواتین، معلومات تک رسائی اور جمہوریت کے لیے کام کرنے والی ایک روسی خاتون صحافی اور موریطانیہ کی پہلی خاتون وکیل شامل ہیں۔

ایوارڈز حاصل کرنے والی خواتین کا جان کیری کے ہمراہ گروپ فوٹو

ایوارڈز حاصل کرنے والی خواتین کا جان کیری کے ہمراہ گروپ فوٹو

نی یولان امریکہ کا سفر نہیں کر سکیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چینی حکام نے گزشتہ ماہ انھیں پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ "نی یولان نے چینی شہریوں کے قانونی حقوق کے نفاذ کے لیے کی جانے والی کوششوں میں بہت قیمت ادا کی ہے۔ کھل کر بات کرنے کی ان کی عادت کے باعث انھیں قید بھی کاٹنا پڑی جہاں انھیں اس بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ ان کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا، لیکن یہ بھی انھیں ان کے عزم سے نہیں روک سکا۔"

کیری کا مزید کہنا تھا کہ "نی یولان نے بیجنگ کے ان شہریوں کے حق ملکیت کا دفاع بھی جاری رکھا جن کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔"

رواں سال اس ایوارڈز کو دس برس مکمل ہوئے ہیں اور اب تک امریکہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی 101 باہمت خواتین کو ان کی کامیابیوں پر یہ ایوارڈ دے چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG