رسائی کے لنکس

بو ژلائی کا مقدمہ قتل میں ’کوتاہی‘ برتنے کا اعتراف


بو ژلائی

بو ژلائی

سابق سیاستدان نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی غلطی پر ’’شرمندہ‘‘ ہیں جو ان کے بقول اس وقت سرزد ہوئی جب مقامی پولیس کے سربراہ اور ان کے ایک سابق اعلیٰ معاون وانگ لیجُن نے انھیں بتایا کہ ان کی بیوی نے برطانوی شہری نیل ہیووڈ کو قتل کردیا ہے۔

چین میں بدعنوانی کے مقدمے کا سامنا کرنے والے سیاستدان بوژلائی نے اعتراف کیا ہے کہ 2011ء میں ان کی اہلیہ کے ایک برطانوی کاروباری شخص کے قتل میں ملوث ہونے کے معاملے پر ان سے کوتاہی ہوئی۔

تاہم بو کا کہنا تھا کہ وہ خود کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں رہے۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی غلطی پر ’’شرمندہ‘‘ ہیں جو ان کے بقول اس وقت سرزد ہوئی جب مقامی پولیس کے سربراہ اور ان کے ایک سابق اعلیٰ معاون وانگ لیجُن نے انھیں بتایا کہ ان کی بیوی نے برطانوی شہری نیل ہیووڈ کو قتل کردیا ہے۔

بو کا کہنا تھا کہ اس اطلاع کو سننے کے بعد انھوں نے پولیس سربراہ کے منہ پر طمانچہ مارا تھا کیونکہ ان کے بقول ابتدائی طور پر وہ یہ سمجھے کہ مسٹر وانگ ان کی اہلیہ گو کائیلائی کو اس جرم میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

گوکائیلائی پر بعد ازاں مقدمہ چلا اور برطانوی کاروباری شخصیت کے قتل کے جرم میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ان دونوں وہ یہ سزا کاٹ رہی ہیں۔

ہفتہ کو ہونے والی عدالتی کارروائی میں مسٹر وانگ نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ مسٹ بو سے اختلاف کے بعد اپنی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر وہ بھاگ کر امریکی سفارتخانے چلے گئے تھے۔

بوژلائی کو ریاستی فنڈز میں خردبرد اور بدعنوانی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ انھوں نے ایک حکومت تعمیراتی منصوبے سے آٹھ لاکھ ڈالر چرانے کے الزام کو یکسر مسترد کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG