رسائی کے لنکس

چین: بوژلائی کو دفاع کا موقع دیا جائے، بیٹے کا مطالبہ


بوژلائی

بوژلائی

بوژ لائی کے بیٹے نے مطالبہ کیا کہ اُن کے والد کو ’’ناقدین کا جواب دینے اور کسی قسم کی رکاوٹ کے بغیر اپنا دفاع کرنے کا موقع فراہم کیا جائے‘‘۔

چین میں برطرف سیاست دان بوژلائی کے بیٹے نے اپنے والد کے خلاف رواں ہفتے شروع ہونے جا رہے بدعنوانی سے متعلق مقدمے کی شفافیت پر شک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ میں منگل کو شائع ہونے والے بیان میں بو گواگوا نے مطالبہ کیا کہ اُن کے والد کو ’’ناقدین کا جواب دینے اور کسی قسم کی رکاوٹ کے بغیر اپنا دفاع کرنے کا موقع فراہم کیا جائے‘‘۔

بوگوا کا کہنا تھا کہ گزشتہ 18 ماہ سے اُنھیں اپنے والد یا والدہ، گو کائیلائی، سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ گو کائیلائی پر مالیاتی تنازع کی وجہ سے کاروبار سے منسلک ایک برطانوی خاتون کو قتل کرنے کا مرتکب ٹھہرایا جا چکا ہے۔

امریکہ میں زیرِ تعلیم 25 سالہ بوگوا نے کہا کہ وہ اُن حالات کا محض گمان ہی کر سکتے ہیں جن کا اُن کے والدین دورانِ حراست اور تنہائی میں سامنا کر رہے ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ بوژلائی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اُس وقت تک ’’کوئی اخلاقی حیثیت نہیں ہو گی‘‘ جب تک مقدمے کے انجام کا انحصار اُن کی سلامتی سے متعلق سمجھوتوں پر ہو۔

متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر گوکائیلائی کا اپنے بیٹے کے تحفظ کے سلسلے میں سمجھوتا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے خاوند کے خلاف گواہی دے سکتی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بو ژلائی پر جرم کا ثابت ہونا تقریباً یقینی ہے۔ بیشتر کا خیال ہے کہ اُنھیں طویل قید کی سزا ہو گی، تاہم سزائے موت کے امکانات کم ہیں۔

نیو یارک میں قائم فورڈہم لاء اسکول سے منسلک چینی قوانین کے ماہر کارل مِنزر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت اب تک ممکنہ طور پر مقدمے کے فیصلے اور سزا کا تعین کر چکی ہوگی۔

گزشتہ برس تک مسٹر بو چین کی سیاست میں ایک ابھرتے ہوئے رہنما تھے۔ اس اسکینڈل کی وجہ سے اپنے زوال سے قبل وہ کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا حصہ بن چکے تھے۔

بوژلائی کے خلاف مقدمے کا آغاز جمعرات کو مشرقی صوبہ شانڈونگ کے دارالخلافہ جینان میں ہوگا۔ اُنھیں رشوت ستانی، بد عنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کا سامنا ہے۔
XS
SM
MD
LG