رسائی کے لنکس

برما میں انتخابات اور چینی مفادات

  • پیٹر سمپسن

اقوامِ متحدہ کے ایک وزارتی گروپ نے حال ہی میں برما کی حکومت پر زور دیا کہ وہ سوچی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کردے

اقوامِ متحدہ کے ایک وزارتی گروپ نے حال ہی میں برما کی حکومت پر زور دیا کہ وہ سوچی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کردے

20 سال میں پہلی بار برما انتخاب کی تیاری کر رہا ہے اور ہمسایہ ملک چین پوری طرح اس کی حمایت کر رہا ہے ۔ علاقے کے سیاسی تجزیہ کار کہتےہیں کہ چین کا مقصد یہ ہے کہ اس کی سرحد پر حالات مستحکم رہیں۔

برما کی فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ بیس سال میں پہلی بار ہونے والے ان انتخابات کوملک میں جمہوریت اور سویلین حکومت کے قیام کی راہ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن امریکہ سمیت ناقدین کا کہنا ہے کہ 7 نومبر کے انتخاب کا عمل خامیوں سے پُر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ملک بدستور فوج کے کنٹرول میں رہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے کہا ہے کہ چین کے لیے برما میں جمہوریت اہم نہیں ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ برما کے ساتھ اس کی 2,200 کلومیٹر طویل سرحد پر امن وسکون قائم رہے۔

ایک سال قبل، برما کے شمال مشرقی شان صوبے میں ،کوکانگ کے علاقے میں جہاں بیشتر چینی نسل کے لوگ رہتےہیں، برما کی فوجی کارروائی کے بعد لاکھوں لوگ سرحد پار چین میں داخل ہو گئے تھے۔ علاقے میں شورش ختم کرنے کے لیے چین کو اپنی فوجیں تعینات کرنی پڑی تھیں۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی Stephanie Kleine-Ahlbrandt کہتی ہیں کہ بیجنگ کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ مسئلہ کھڑا ہونے والا ہے۔’’چین نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ اس کا ہمسایہ ملک کوئی فوجی کارروائی کرنے والا ہے ۔ چین کو اس بات پر بھی حیرت ہوئی کہ سرحد پر موجود اس کے عہدے داروں نے پہلے سے اس سلسلے میں کوئی انتباہ نہیں کیا تھا۔‘‘

Ahlbrandt کہتی ہیں کہ اس کے بعد سے چین نے برما کے لیڈر جنرل Than Shwe کے ساتھ زیادہ قریبی رابطہ قائم کر لیا ہے۔ لیکن انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مطابق، اس کے باوجود برما کے بیشتر لوگوں میں چین کا تاثر بدستور خراب ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے توانائی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور اس سے برما میں بے اطمینانی میں اضافہ ہوا ہے ۔ تھائی لینڈ اور سنگا پور کے بعد، برما کی سب سے زیادہ تجارت چین کے ساتھ ہوتی ہے ۔ لیکن رپورٹ کے مطابق، برما کے بہت سے لوگ، اپنے ملک میں بہت سی چینی کمپنیوں سے نا خوش ہیں کیوں کہ ان کا کاروبار شفاف نہیں ہے، وہ ماحول کی فکر نہیں کرتیں اور فوائد کو منصفانہ طریقے سے تقسیم نہیں کرتیں۔ اپریل 2009 میں، برما کے شمالی صوبے Kachin میں چینیوں کے بنائے ہوئے ایک ڈیم کے نزدیک تین بم پھٹے ۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دھماکے چینی کاروباری اداروں سے ناراضگی کا نتیجہ تھے ۔

Xiamen University کے پروفیسر Zhang Xu کہتے ہیں کہ علاقے میں برما کے لوگوں کی ناراضگی کی وجہ اقتصادی عدم توازن ہے ۔برما میں تمام بڑے بڑے کاروبار چینی کمپنیاں چلاتی ہیں اور چین کو جو زبردست منافع حاصل ہوتا ہے اس میں شاید ہی برما کو کچھ حصہ ملتا ہو۔ Zhang یہ بھی کہتے ہیں کہ برما میں کام کرنے والے بہت سے چینی برما کے کلچر سے نا واقف ہیں۔ اس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں جو ان پالیسیوں کی وجہ سے جو برما کی قیادت نے اقلیتوں کے ساتھ اختیار کی ہیں اور زیادہ سنگین ہو جاتی ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان Jiang Yu نے کرائسس گروپ کی رپورٹ کو مستر د کر دیا اور کہا کہ برما کے ساتھ تجارت سے دونوں ملکوں کو برابر کا فائدہ ہوتا ہے ۔ چین کی حکومت چینی کمپنیوں پر مسلسل زور دیتی رہتی ہے کہ وہ مقامی قوانین اور ضابطوں کی پابندی کریں اور ماحول کے تحفظ اور مقامی روایات پر توجہ دیں۔

چین کی پالیسی کے ناقدین کہتے ہیں کہ چین کا خیال ہے کہ برما میں اس کے اقتصادی مفادات کا انحصار استحکام پر ہے، خاص طور سے سرحدی علاقوںمیں رہنے والے نسلی گروپوں میں۔لیکن ستمبر کے شروع میں، سرحد کے حساس علاقے ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ برما کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ بعض نسلی کمیونٹیوں میں پولنگ اسٹیشن قائم نہیں کرے گی۔

برما کے نئے آئین کے تحت، پارلیمنٹ کی 25 فیصد نشستیں فوج کے لیے مخصوص ہیں۔ ملک کے انتخابی قوانین میں جن کا اعلان اس سال کے شروع میں کیا گیا ہے، ایسے ہر شخص کو جسے کسی جرم میں سزا ہو چکی ہے، انتخاب میں شرکت کا نا اہل قرار دیا گیا ہے اور سیاسی پارٹیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے تمام لوگوں کی رکنیت ختم کر دیں جو یا تو جیل میں ہیں یا زیرِ حراست ہیں۔ اس میں برما کا بڑا حکومت مخالف گروپ، نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی یا NLD بھی شامل ہے ۔

اس کی لیڈر آنگ سان سوچی گذشتہ بیس برس کے بیشتر حصے میں گھر میں نظر بند رہی ہیں۔ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے 1990 میں ملک کا آخری انتخاب جیت لیا تھا، لیکن فوج نے انہیں بر سرِ اقتدار آنے کی اجازت نہیں دی۔ NLD نے آنگ سان سوچی کی رکنیت ختم کرنے سے انکار کر دیا اور حکومت نے کہا پارٹی کو خود کو ختم کرنا ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کے ایک وزارتی گروپ نے حال ہی میں برما کی حکومت پر زور دیا کہ وہ سوچی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کردے اور انتخابات کو قابل ِ اعتبار بنانے کے لیے تمام گروپوں کو ان میں شامل کرے۔ اس وزارتی گروپ میں چین بھی شامل تھا۔

XS
SM
MD
LG