رسائی کے لنکس

’اگر چین عالمی برادری سے احترام چاہتا ہے تو اسے ایک ایسے عالمی عمل دار کا کردار ادا کرنا ترک کرنا ہوگا جو محض مخصوص معاملات میں شریک ہوتا ہے‘

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کا بین الاقوامی معاملات میں "تعمیری" استعمال کرے۔

سکریٹری کلنٹن نے یہ بات بدھ کو واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا انعقاد سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے 1972ء کے دورہ امریکہ کے 40 برس مکمل ہونے کی مناسبت سے کیا گیا تھا۔

صدر نکسن کے یہ دورہ کسی امریکی سربراہِ مملکت کا پہلا دورہ چین تھا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے۔

تقریب سے خطاب میں ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ اگر چین عالمی برادری سے احترام چاہتا ہے تو اسے ایک ایسے عالمی عمل دار کا کردار ادا کرنا ترک کرنا ہوگا جو محض مخصوص معاملات میں شریک ہوتا ہے۔

انہوں نے اس ضمن میں شام میں جاری بحران سے نبٹنے کے طریقہ کار، چین میں بسنے والی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ چینی حکومت کے سلوک اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے چلے آرہے تجارتی تنازعات پر چین اور امریکہ کے درمیان موجود اختلافات کی مثالیں دیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک چین کو عالمی سلامتی کا ایک اہم معاون بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ واشنگٹن بیجنگ کے ساتھ "غیرصحت مندانہ مقابلہ، دشمنی یا تصادم" نہیں چاہتا۔

تقریب سے ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے چین کے وزیرِ خارجہ یانگ جیچی نے اصرار کیا کہ ان کا ملک انسانی حقوق کے احترام اور پرامن ترقی کو فروغ دینے پہ کاربند ہے۔

انہوں نےامید ظاہر کی کہ امریکہ چین کی ترقی کو"درست اوربامقصد تناظر‘ میں دیکھے گا اور باہمی اعتماد کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

XS
SM
MD
LG