رسائی کے لنکس

جمہوریت پسندوں کی رہائی کے لئے دباوٴ قبو ل نہیں، چین


جمہوریت پسندوں کی رہائی کے لئے دباوٴ قبو ل نہیں، چین

جمہوریت پسندوں کی رہائی کے لئے دباوٴ قبو ل نہیں، چین

چین نے کہا ہے کہ وہ جمہوریت پسندوں کی رہائی کے سلسلے میں کسی بھی قسم کا دباوٴ قبو ل نہیں کرے گا۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان جیانگ یو نے جمعرات کو بیجنگ میں میڈیا بریفنگ میں کہا کہ جمہوریت پسندوں کی رہائی کیلئے ان کا ملک کوئی دباوٴ قبول نہیں کرے گا۔

چین اور حقوق انسانی کے کارکنوں نے مختلف ممالک سے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہونے والی نوبیل انعام کی تقریب میں شرکت کے لیے، جو جمعے کی شام منقعد ہورہی ہے، اپنے نمائندے نہ بھیجنے کا مطالبہ کیا ۔ اس دوران فلپائن نے تقریب تقسیم انعامات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا جسے سخت تنقید کاسامنا کرنا پڑا تھا۔

آخری خبریں آنے تک دنیا بھر کے 44 ممالک نے نوبیل کمیٹی کو تقریب میں شرکت کی یقین دہائی کرائی تھی جبکہ 18 ممالک نے چین کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ کمیٹی کے چیئرمین تھورجورن جگ لینڈ کا ایک ٹی وی انٹرویو میں کہنا تھا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے ممالک چین کا دباوٴ قبول کریں گے۔

چین نے تقریب انعامات کے حوالے سے آنے والی خبروں کو روکنے کے لئے میڈیا کو سنسر کرنے کی کوشش بھی کی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جمعرات کو چین میں متعدد غیرملکی ویب سائٹ تک رسائی بند تھی۔

اس دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت تبت کی آزادی کے لئے سرگرم عمل متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بیان میں چین سے لیو کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان جیانگ نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران اس بات پر زور دیا کہ چین کے اس موقف کو عالمی حمایت حاصل ہے کہ ایک مجرم نوبیل انعام جیسے عالمی اعزاز کا حقدار نہیں ہوسکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی اکثریت نے نوبیل کمیٹی کے فیصلے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG