رسائی کے لنکس

چین کی ڈرون سازی سے اسلحے کی نئی دوڑ کا خدشہ

  • مارک سنواس

برسوں سے، امریکہ عالمی ڈرون مارکیٹ پر چھایا رہا ہے، اور یہ بات سب کے علم میں ہے کہ اس نے غیر ملکی اہداف کے خلاف مسلح ڈرون حملے کیے ہیں۔

چین نے اس ہفتے تسلیم کیا کہ اس نے برما کے منشیات کے ایک بڑے تاجر کے خلاف ڈرون استعمال کرنے پر غور کیا تھا ۔ منشیات کا یہ تاجر 13 چینی ملاحوں کے قتل کے سلسلے میں مطلوب ہے۔ اس خبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی بغیر پائلٹ والے جہازوں کو جنگ میں استعمال کرنے کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عالمی منڈی میں بغیر پائلٹ والے ڈرون جہازوں کی مانگ تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے ۔

چین میں انسدادِ منشیات کے محکمے کے سربراہ لیو یوئجن نے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت شمال مشرقی برما کے پہاڑی علاقے میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے سرغنہ نا خام کی خفیہ پناہ گاہ پر بغیر پائلٹ والے ہوائی جہاز سے بمباری کی جانی تھی تا کہ مہینوں سے جاری تعاقب ختم کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ بعد میں ڈرون سے حملے کا خیال ترک کر دیا گیا تا کہ گذشتہ اپریل میں چین اور لاؤس کی مشترکہ کارروائی میں نا خام کو زندہ گرفتار کیا جا سکے۔ لیکن ان کے اس تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین سنجیدگی سے اپنی سرحدوں کے باہر ڈرون کے حملوں کے بارے میں غور کر رہا ہے ۔

امریکہ کے نیول وار کالج کے پیٹر ڈوٹون کہتے ہیں کہ چین کو اب اپنی سرحدوں کے پار اپنی طاقت کے اظہار میں کوئی تکلف نہیں ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ بین الاقوامی امور میں مداخلت نہ کرنے کی پرانی پالیسی ترک کرتا جا رہا ہے ۔ ’’ یہ ایک نئی تبدیلی ہے ۔ چین ماضی کے مقابلے میں اب بین الاقوامی امور میں اپنی سرحدوں کے پار اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے زیادہ سرگرم ہے۔‘‘

برسوں سے، امریکہ عالمی ڈرون مارکیٹ پر چھایا رہا ہے، اور یہ بات سب کے علم میں ہے کہ اس نے غیر ملکی اہداف کے خلاف مسلح ڈرون حملے کیے ہیں۔

لیکن چین نے حالیہ دنوں میں اپنی ٹیکنالوجی میں زبردست ترقی کی ہے۔ اس نے حالیہ ایئر شوز میں بڑی تعداد میں ڈرونز کے نئے ماڈلوں کی نمائش کی ہے ، اور اپنے عالمی نیوی گیشن سسٹم کو اتنا جدید بنا لیا ہے کہ وہ اب امریکہ کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم اور روسی اور یورپی یونین کے سسٹمز سے مقابلہ کر سکتا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے پاکستان، یمن اور صومالیہ میں ڈرون کے حملوں کا جواز یہ کہہ کر دیا ہے کہ ان ملکوں کی حکومتیں نشانہ بنائے جانے والے فرد کے خطرے کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں تھیں یا ان میں ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔

امریکن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر اسٹیفن ولادک کہتے ہیں کہ امریکہ کو اس بارے میں کہیں زیادہ واضح موقف اختیار کرنا چاہیئے کہ بغیر پائلٹ والے مسلح جہازوں کے استعمال کے لیے وہ کیا پیمانہ استعمال کرتا ہے ، کیوں کہ چین اور دوسرے ملک اس پہلو پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

’’اس مسئلہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ کیوں کہ امریکی حکومت کی طرف سے کیے جانے والے ڈرون حملوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور اس نے صاف طور یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ ان حملوں کے لیے کیا معیار استعمال کرتی ہے، اس لیے چین جیسے ملکوں کے لیے امریکہ کی مثال دینا ممکن ہے اور وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ امریکہ ایسا کر رہا ہے، اس لیے ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘

ایک اور مسئلہ ڈرونز کے پھیلاؤ اور ان کی انتہائی تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ کا ہے ۔

اگرچہ امریکہ بغیر پائلٹ والے ہوائی جہاز صرف اپنے چند قریب ترین حلیفوں کو بر آمد کرتا ہے، چینی کمپنیوں کے بارے میں یہ خیال عام ہوتا جا رہا ہے کہ ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے اور وہ بہت کم قیمت پر ڈرون فراہم کر سکتی ہیں ۔ درجنوں ملکوں نے اپنے بغیر پائلٹ والے ہوائی جہاز خرید لیے ہیں یا تیار کر لیے ہیں ۔ یہ جہاز بنیادی طور سے نگرانی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ولادک کے خیال یہ رجحان پریشان کن ہے ۔

’’مسئلہ یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب نہایت آسانی سے دستیاب ہوتی جا رہی ہے اور اتنی سستی ہے کہ میرے خیال میں وہ دن دور نہیں جب ایسے ملک جن کی فوجیں بہت چھوٹی ہیں، اور جن کی حکومتیں بہت کم ذمہ دار ہیں، وہ بھی اس ٹکنالوجی کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔‘‘

چین نے نومبر میں زوہائی کے ایئر شو میں ایک ایسے ڈرون کی نمائش کی جو 3,200 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک پرواز کر سکتا ہے، اور جاپان کی فوج نے حال ہی میں چند چینی بحری جہازوں کے نزدیک بغیر پائلٹ والے ایک جہاز کی پرواز کو اوکیناوا کے قریب ایک تربیتی مشق کرتے ہوئے ریکارڈ کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان مشرقی چین کے سمندر میں متنازع جزیروں کے سوال پر کشیدگی میں اضافے کے پیشِ نظر، جاپانی میڈیا کے رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان کی نئی حکومت امریکی ڈرونز کے ایڈوانسڈ ماڈل کے چند جہاز خریدنا چاہتی ہے۔

اگرچہ دونوں فریقوں کا کہنا ہے کہ بغیر پائلٹ والے ہوائی جہاز صرف نگرانی کے لیے ہوں گے، ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ ان جہازوں میں اسلحہ کا اضافہ کرنا نسبتاً آسان ہے، اور ڈرونز کے درمیان علاقائی جھڑپوں کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
XS
SM
MD
LG