رسائی کے لنکس

چین: جنوبی شہروں میں اصلاحات کی ضرورت


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

جیسے جیسے عالمی معیشت میں انحطاط آ رہا ہے اور بیرونی ملکوں میں چین کی بنی ہوئی اشیاء کی مانگ کم ہو رہی ہے جنوب میں ترقی کی رفتار میں سستی آ رہی ہے۔

چین نے حال ہی میں دنیا کی طویل ترین تیز رفتار ریل گاڑی کا آغاز کیا۔ یہ ٹرین شمال میں ملک کے سیاسی مرکز سے شروع ہوتی ہے اور گوانگژو تک جاتی ہے جو جنوب میں ملک کا ایک اہم اقتصادی مرکز ہے۔ تیز رفتار ریل گاڑی اور گوانگڈانگ کے علاقے کا عظیم شہر گوانگژو دونوں، ان زبردست اقتصادی چیلنجوں کے آئینہ دار ہیں جن کا سامنا چین کی نئی قیادت کو کرنا پڑ رہا ہے۔

چین کی تیز رفتار ٹرین 300 کلومیٹر فی گھنٹے کی طوفانی رفتار سے سفر کرتے ہوئے، آدھے دن سے بھی کم وقت میں مسافروں کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے طویل اور گونا گوں سفر پر لے جاتی ہے۔

راستے میں چین کی اقتصادی ترقی کے مختلف روپ دیکھنے کو ملتے ہیں۔

گوانگژو کی سن یاٹسن یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ژو ژانگ زیانگ کہتے ہیں کہ‘‘چین میں عدم مساوات کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جہاں لوگ مالدار ہیں، وہاں تو ٹھیک ہے، لیکن غریب علاقوں میں لوگوں میں اتنی استطاعت بھی نہیں کہ وہ اسکول جا سکیں یا اسپتال جا سکیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ بہت سی جگہوں پر حالات ایسے ہی ہیں۔ اگر آپ بیجنگ، شنگھائی، گوانگژو پر نظر ڈالیں، تو سب ٹھیک ٹھاک ہے، لیکن اگر آپ دو گھنٹے ڈرائیو کریں اور ان شہروں سے دور چلے جائیں، تو نقشہ بالکل بدل جاتا ہے۔’’

چین کا اقتصادی عروج تین عشرے قبل جنوب سے شروع ہوا۔ اب اس علاقے کی اقتصادی ترقی کی بدولت جو ایسی صنعتوں کی مرہون منت ہے جن میں انسانی محنت کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، چین کی 50 سے 60 فیصد معیشت اس علاقے میں واقع ہے۔

لیکن جیسے جیسے عالمی معیشت میں انحطاط آ رہا ہے اور بیرونی ملکوں میں چین کی بنی ہوئی اشیاء کی مانگ کم ہو رہی ہے جنوب میں ترقی کی رفتار میں سستی آ رہی ہے۔

پروفیسر ژانگ کہتے ہیں کہ ‘‘گوانگژو میں اور ساحلی علاقوں میں سرکاری عہدے دار سخت پریشان ہیں اور کوئی ایسا طریقہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے جس سے جنوب کے اقتصادی ماڈل کو تبدیل کیا جا سکے۔ یہاں نئے ماڈل کی جو تلاش جاری ہے وہ مستقبل میں بقیہ چین کے لیے ماڈل بن سکتی ہے۔’’

توقع ہے کہ چین میں اقتصادی ترقی کی شرح اس عشرے کے آخر تک تقریباً سات فیصد پر قائم رہے گی۔ اس کے لیڈر اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملک کو کس قسم کے چیلنج درپیش ہیں۔

چین کے سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم وین جیا باؤ کہتے ہیں کہ‘‘سماجی مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم، روزگار، سوشل سکیورٹی، علاج معالجے کی سہولتیں، رہائشی سہولتیں، ماحول، غذائی اشیاء اور دواؤں کو محفوظ بنانا، کام کی جگہ کو خطرات سے پاک کرنا، اور امن و امان کی صورتِ حال، ان سب چیزوں سے عام لوگوں کے اہم مفادات متاثر ہوتے ہیں۔’’

جنوب کے علاقے اور گوانگژو جیسے شہروں کے خوشحال اور منفرد ہونے کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہاں روزگار کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔

فلمساز ای ژاؤمینگ کئی عشروں سے چین کے مختلف علاقوں کے سماجی مسائل کو ریکارڈ کرتی رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘‘میرے خیال میں چین کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں گوونگڈونگ کو اس لیے برتری حاصل ہے کہ وہ ہانگ کانگ اور مکاؤ کے نزدیک ہے اور اس وجہ سے یہاں اطلاعات کی ترسیل کی آزادی زیادہ ہے۔

اور چونکہ سب سے پہلے گوونگڈونگ نے اصلاحات کو قبول کیا اور آزادی کی پالیسیاں اپنائیں، اس لیے یہاں عام لوگ زندگی کی قدر کرتے ہیں۔ یہاں کے ماحول میں بنیادی طور آزاد ی اور کشادگی کا احساس موجود ہے۔

فلمساز ای ژاؤمینگ کہتی ہیں کہ چونکہ گوانگژو بیجنگ اور ملک کی سیاسی طاقت کے مرکز سے دور ہے، اس لیے اس کے مقامی عہدے داروں کے لیے نسبتاً زیادہ ترقی پسند ہونا ممکن ہے۔ لیکن کھلے اور کشادہ ذہن پر مبنی ماحول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تبدیلی لانا آسان ہے۔
XS
SM
MD
LG