رسائی کے لنکس

ایندھن کی کھپت امریکہ سے کم: چین کا دعویٰ


چین میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے آلودگی میں اضافہ ہورہاہے

چین میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے آلودگی میں اضافہ ہورہاہے

چین یہ تسلیم کرتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اس کی معیشت میں تیل کی کھپت میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ملک میں توانائی کا فی کس استعمال امریکہ کے مقابلے میں اس کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔

چین کی جانب سے جاری ہونے والی ایک تازہ رپورٹ کے اعداد وشمار سے ظاہر ہوا ہے کہ وہاں توانائی کی کھپت امریکہ سے کم ہے۔

چین دنیا کی ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے اور وہاں توانائی کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ تاہم چینی حکام گذشتہ ماہ توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے اس اعلان پر حیران رہ گئے کہ چین دنیا بھر میں سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والا ملک بن چکاہے۔ چین حکام نے بین الاقوامی ادارے کی جانب سے پیش کردہ اعدادوشمار کو ’’ناقابل بھروسہ‘‘ کہتے ہوئے مسترد کردیا۔

چین کے دو حکومتی اداروں، نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن اور نیشل بیورو آف سٹیٹسکس نے بدھ روز ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی جس کے مطابق 2009 ء میں چین میں تیل کی مجموعی کھپت 2.146 ارب ٹن تھی۔ جو اس سے قبل قائم کیے گئے اندازوں یعنی 2.132 ارب ٹن سے قدرے زیادہ مگر امریکہ میں اسی عرصے کے دوران تیل کی کھپت سے کم تھی۔ 2009ء میں امریکہ میں تیل کی کھپت 2.169 ارب ٹن تھی۔

تاہم توانائی کے عالمی ادارے آئی ای اے نے اپنی رپورٹ کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا ہے کہ وہ دنیا کے تمام ملکوں میں تیل کی کھپت کا جائزہ ایک ہی پیمانے کے تحت لیتا ہے۔ جس کے مطابق گذشتہ برس چین میں 2.265ارب ٹن تیل استعمال ہوا تھا۔ اور یہ مقدار امریکہ کے مقابلے میں 4.4 فی صد زیادہ ہے۔

یہ معاملہ چین کے لیے اس وجہ سے حساس نوعیت کا ہے کیونکہ اس پر بین الاقوامی سطح پر یہ دباؤ بڑھ رہاہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے مزید اقداماات کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی حدت کی ایک وجہ گرین ہاؤس گیسیں بن رہی ہیں جن کا ایک بڑا سبب معدنی ایندھن ہے۔

چین یہ تسلیم کرتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اس کی معیشت میں تیل کی کھپت میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ملک میں توانائی کا فی کس استعمال امریکہ کے مقابلے میں اس کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔

چینی حکام نےکم توانائی سے زیادہ کام لینے کے اپنے پروگرام کے سلسلے میں اتوار کے روز دوہزار سے زیادہ ایسی فیکٹریاں بند کرنے کا اعلان کیا تھا جہاں پرانی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی تھی۔

تاہم کرسچین سائنس مانیٹر کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اعلان کردہ فیکٹریوں میں سے چارسے رابطہ کیا گیا تو انہیں پتا چلا کہ ان میں سے تین کارخانے پہلے ہی سے بند پڑے تھے جب کہ ایک کو بند ہوئے دو سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکاتھا۔

XS
SM
MD
LG