رسائی کے لنکس

یورپ چین پر تنقید میں محتاط

  • ہنری ریجول

چینی وزیراعظم وین جیا باؤ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ہمراہ

چینی وزیراعظم وین جیا باؤ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ہمراہ

چین کے وزیرِ اعظم وین جیا باؤ اربوں ڈالر مالیت کے کاروباری سودوں پر دستخط کرنے کے بعد اپنا یورپ کا دورہ مکمل کر رہے ہیں۔ یورپ کے ملک اپنی زوال پذیر معیشتوں کو سہار ادینے کے لیے چین کی طرف سے سرمایہ کاری کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ لیکن یورپ میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یورپ کو ایک ایسے ملک کے ساتھ کاروبار کرنے میں اتنی عجلت سے کام نہیں لینا چاہیئے جس پر انھوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے ۔

یورپی ملکوں کے دارالحکومتوں میں وین جیا باؤ کے خیر مقدم کے لیئے شاندار تیاریاں کی گئی تھیں۔ لندن میں ، چین کے وزیر اعظم نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ اس سے قبل انہیں ملک کے مختصر دورے پر لے جایا گیا تھا۔ اگلا اسٹاپ برلن تھا جہاں چانسلر انجیلا مرکل نے جھیل کے کنارے ایک ولا میں ان کے اعزاز میں ڈنر دیا۔ بعد میں ایک نیوز کانفرنس میں چین کے وزیرِ اعظم نے اپنے شاندار خیر مقدم کا مناسب جواب دیا۔ انھوں نے کہا’’ہمیں یورپ کی معیشت پر اور اس کی کرنسی یورو پر پورا اعتماد ہے اور ہم نے کہا ہے کہ اگر ضرورت ہوئی تو ہم مناسب سطحوں پر کچھ یورپی ملکوں کا قرض خرید لیں گے۔‘‘

مسٹروین نے جرمنی میں 15 ارب ڈالر مالیت کے سودوں پر دستخط بھی کیے۔ ان میں یورپ میں تیار کیے ہوئے 88 ایئر بس جہازوں کی خریداری بھی شامل ہے ۔ چین کا فیاضانہ رویہ سب لوگوں کو پسند نہیں آیا ہے ۔ فری تبت گروپ کے احتجاج کرنے والے لوگ ہر جگہ مسٹر وین کے دورے میں سایے کی طرح ان کا پیچھا کرتے رہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب سے پوری عرب دنیا میں جمہوریت کی حمایت میں احتجاج شروع ہوئے ہیں، چین میں حالات اور زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے سام زافیری کہتے ہیں’’انسانی حقوق کے معاملے میں چین بڑی حد تک پیچھے چلا گیا ہے ۔ چین میں انسانی حقوق کی حالت جتنی خراب آج کل ہے اتنی گذشتہ دس برسوں میں، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ عرصے میں، پہلے کبھی نہیں تھی۔‘‘

زافیری کہتے ہیں کہ اس کی ایک مثال آرٹسٹ اور سیاسی کارکن Ai Wei Wei کی حراست کی ہے ۔ انہیں اپریل میں، مبینہ طور پر ٹیکس ادا نہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں وین جیاباؤ کے یورپ کے دورے سے چند روز پہلے رہا کیا گیا۔’’ درجنوں سرگرم کارکن، وکیل، حکومت سے اختلاف رکھنے والوں پر اپنے خیالات کے اظہار پر اس سے بھی زیادہ سخت پابندیا ں عائد ہیں۔ ظاہر ہے کہ چینی حکومت باہر سے پڑنے والے دباؤ کا اثر لیتی ہے ۔ یہ مفروضہ کہ اپنی اقتصادی طاقت کی وجہ سے چین کسی دباؤ کی پرواہ نہیں کرتا، مفروضے سے زیادہ اور کچھ نہیں۔‘‘

لیکن برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے جب چین میں انسانی حقوق کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انھوں نے محتاط انداز میں جواب دیا۔’’ہم اس بات میں پکا یقین رکھتے ہیں کہ خوشحالی اور استحکام کی بہترین ضمانت یہ ہے کہ اقتصادی اور سیاسی ترقی ساتھ ساتھ چلے ۔‘‘

چینی وزیرِ اعظم نے اپنے جواب میں زیادہ صاف گوئی سے کام لیا۔ انھوں نے کہا’’انسانی حقوق کے معاملے میں چین اور برطانیہ کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیئے، حقائق کا احترام کرنا چاہیئے، ایک دوسرے کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرنا چاہیئے، عیب جوئی کے بجائے تعاون سے کام لینا چاہیئے، اور اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے طے کرنے چاہئیں۔‘‘

اب جب کہ یورپ اپنے قرض کے بحران سے نکلنے کی جدو جہد کر رہا ہے، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یورپی لیڈروں کو کھلے عام چین پر تنقید کرنے میں تامل ہے کیوں کہ اربوں ڈالر کے کاروباری سودے میز پر رکھے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG