رسائی کے لنکس

یورپی یونین اور چین کو ہتھیاروں کی فروخت کا مسئلہ


یورپی یونین اور چین کو ہتھیاروں کی فروخت کا مسئلہ
یورپی یونین اور چین کو ہتھیاروں کی فروخت کا مسئلہ

چین کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر برطانیہ نے یورپی یونین سے اختلاف کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ 1979ء میں چین کے تیانامن سکوائر پر حکومت کے مخالفین پر کریک ڈاؤن کے بعد یورپی یونین کے رکن ملکوں پر چین کو ایسی مصنوعات کی فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جو اس کی فوج کے کام آسکتے ہوں ۔ لیکن اب چین اپنی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کو اس پابندی پر اثر انداز ہونے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

اس مہینے کے شروع میں چین کے نئے سٹیلتھ فائٹر طیارے کی اولین پرواز کے مناظرعالمی امور کے ماہرین کی توجہ چین کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس فوج کی طرف مبذول کروا رہے ہیں ۔ یورپی یونین کی جانب سے چین کو ہتھیاروں اور فوجی ٹیکنالوجی کی فروخت پر اس وقت پابندی عائد کی گئی تھی جب چین نے بیجنگ کے تیانامن سکوائر پر حکومت کے مخالفین کے خلاف کریک ڈاون کیا تھا۔

برطانیہ کے ایک دفاعی ماہر الیگزینڈر نیل کا کہنا ہے کہ چین کا بڑھتا ہوا اقتصادی اثرو رسوخ اب یورپ میں محسوس کیا جا رہاہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یورپی یونین کے رکن ملک اب یقینا چین کی طرف سے دباؤ محسوس کر رہے ہیں ،اور ایسا تمام یورپی یونین ملکوں میں ہے ۔ کئی اہم یورپی راہنما سوچ رہے ہیں کہ وہ کیسے چین کے ساتھ سرمایہ کاری بڑھائیں ، جو انہیں ان کے معاشی مسائل سے نکلنے میں زبردست مدد دے رہا ہے ۔

بیجنگ نے حال ہی میں کئی یورپی کمپنیوں سے چند بڑے تجارتی سودے کئے ہیں جن میں کاریں بنانے والے کمپنی واکس ویگن اور جرمنی کی ڈیملر کے ساتھ ہونے والے پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے ۔ چین کہتا ہے کہ وہ سپین کی حکومت کا 7.9 ارب ڈالر کے برابر قرضہ ادا کرنے کو تیار ہے ، وہ بھی ایک ایسے وقت جب یورپی یونین کی کرنسی یورو کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں ۔

کئی یورپی راہنماوں نے ، جن میں یورپی بلاک کی امور خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن بھی شامل ہیں ، مشورہ دیا ہے کہ چین کو ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی پر نظر ثانی کی جائے ۔لیکن برطانیہ کو ، جو اپنے ملک میں چین کی سرمایہ کاری میں حصہ ملنے پر خوش ہے ، ان یورپی ملکوں سے اتفاق نہیں ، جو اس پابندی کے ختم ہونے کے حامی ہیں ۔

الیگزینڈر نیل کہتے ہیں کہ برطانیہ کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ یہ پابندی اٹھانے کا وقت نہیں ہے ۔

حال ہی میں وکی لیکس کے ذریعے سامنے آنے والے انکشافات سے بھی یہی معلوم ہوا ہے کہ امریکہ بھی اس پابندی کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہے ۔ باوجود اس کے کہ چینی صدر ہو جن تاؤ نے اس مہینے اپنے دورہ واشنگٹن میں چینی فوج کے دفاعی اخراجات کے حوالے سےخدشات دور کرنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے کہاتھا کہ ہم نہ تو ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہیں ، نہ کسی ملک کے لئے فوجی خطرہ بنیں گے ۔ چین کبھی توسیع پسندانہ پالیسی اختیار نہیں کرے گا ۔

لیکن 2010ء میں اپنی فوج پراندازا 78ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود الیگزینڈر نیل کا کہنا ہے کہ چینی اپنی فوج صلاحیت میں ابھی کافی پیچھے ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ تمام شعبے جن میں چین اب امریکہ کے برابر آچکا ہے ، تشویش کا باعث ہیں ، خصوصا جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول میں ۔

چین کے جے ٹونٹی سٹیلتھ فائٹر جہاز بھی ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کے عزائم کی مثال ہیں ۔ بیجنگ کی طرف سے یورپی یونین کے رکن ملکوں کو ملٹری ٹیکنالوجی کی برآمد کی اجازت دینے کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے اور چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کی وجہ سے یورپ اب چین کی بات سننے پر مجبور بھی ہے ۔

XS
SM
MD
LG